4 رَبيع الأوّل / August 17

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی لاش ملنے کے بعد ابتدائی تفتیش سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق لاش ملنے کے بعد جائے وقوعہ پر شواہد اکٹھے کرنے کے عمل میں تاخیر اور مختلف اداروں کی رسپانس میں خامیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا کی لاش کی اطلاع 29 جولائی کو دوپہر 12 بج کر 36 منٹ پر ملی، جبکہ لاش تقریباً 1 بج کر 45 منٹ تک جائے وقوعہ پر موجود رہی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ریسکیو اہلکاروں نے لاش کو دوپہر 2 بجے سے قبل جناح اسپتال منتقل کر دیا، تاہم واقعے کے روز کرائم سین یونٹ کی ٹیم جائے وقوعہ پر نہیں پہنچ سکی۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق کرائم سین یونٹ کو لاش کی اطلاع 3 بج کر 11 منٹ پر سوشل میڈیا کے ذریعے ملی۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کرائم سین یونٹ کو جائے وقوعہ پر آنے سے منع کیا گیا تھا۔

کرائم سین یونٹ کی ٹیم اگلے روز جائے وقوعہ پر پہنچی اور اب تک 5 مرتبہ وہاں کا دورہ کر چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق لاش ملنے کے تقریباً 15 منٹ بعد تلاش کرنے والی ڈیوائس کے اہلکاروں کو بھی اطلاع دی گئی، تاہم وہ موقع پر نہیں پہنچ سکے۔

پولیس رسپانس سے متعلق بھی اہم تفصیلات سامنے آگئیں

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق میر رضا کی لاش ملنے سے قبل پولیس کو گلستانِ جوہر میں ڈکیتی کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔

ذرائع کے مطابق پولیس کو لاش ملنے کی جگہ کے بجائے گلستانِ جوہر بلاک 7 میں ڈکیتی کے مقام پر موجود رہنے کی ہدایت کی گئی۔

تفتیشی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ علاقائی پولیس کے بروقت جائے وقوعہ پر نہ پہنچنے کے باعث بھی بعض اہم شواہد ضائع ہوئے۔

میر رضا کیس کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ پولیس اور متعلقہ ادارے واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔