4 رَبيع الأوّل / August 17

سوئٹزرلینڈ کے ماہرین نے آواز کی لہروں کو استعمال کرتے ہوئے انتہائی چھوٹے ڈرونز اور روبوٹک آلات کو حرکت دینے کا نیا طریقہ تیار کرلیا، جس سے مستقبل میں بغیر روایتی موٹرز کے انتہائی ہلکے مائیکرو ڈرونز بنائے جا سکیں گے۔

سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی لوزان (EPFL) کے سائنسدانوں نے ایسے ننھے ڈرونز اور ماڈل کشتیاں تیار کی ہیں جو آواز کی لہروں سے پیدا ہونے والی قوت کے ذریعے ہوا اور پانی میں حرکت کرسکتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق ان آلات میں خصوصی کھوکھلے ڈھانچے نصب کیے گئے ہیں جنہیں کیویٹیز (Cavities) کہا جاتا ہے۔ یہ ڈھانچے آواز کی لہروں کو حرکت دینے والی قوت یعنی تھرسٹ میں تبدیل کرتے ہیں، جبکہ تھرسٹ کی مقدار آواز کی فریکوئنسی کے مطابق تبدیل کی جا سکتی ہے۔

آواز کی لہریں ڈرون کو کیسے حرکت دیتی ہیں؟

EPFL کی مائیکرو بائیو روبوٹک سسٹمز لیبارٹری کے ماہرین نے گول اور گھنٹی نما کیویٹیز تیار کی ہیں۔ آواز کی لہریں ان ڈھانچوں کے اندر موجود ہوا میں ارتعاش پیدا کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں ہوا ایک مرکوز جیٹ کی صورت میں باہر نکلتی ہے۔

ہوا کے اندر داخل ہونے اور باہر نکلنے کے مختلف انداز سے پیدا ہونے والی قوت ڈرون یا چھوٹی کشتی کو آگے بڑھاتی ہے۔ محققین نے اس مقصد کے لیے ہیلم ہولٹز ریزوننس (Helmholtz Resonance) کے اصول سے مدد لی، جسے خالی بوتل کے منہ پر پھونک مارنے سے پیدا ہونے والی آواز کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔

ایک سینٹی میٹر کی ننھی کشتیاں بھی تیار

ماہرین نے تقریباً ایک سینٹی میٹر لمبی ماڈل کشتیاں بھی تیار کی ہیں، جن میں 3 تک کیویٹیز نصب کی گئیں۔ ہر کیویٹی کو مختلف فریکوئنسی کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔

اسپیکر کے ذریعے آواز کی فریکوئنسی تبدیل کرکے مختلف کیویٹیز کو فعال کیا گیا، جس کے نتیجے میں ننھی کشتیاں مختلف سمتوں میں حرکت کرنے، رکاوٹوں سے بچنے اور پہلے سے طے شدہ راستوں پر خودکار طور پر چلنے میں کامیاب ہوئیں۔

اسی نوعیت کے تجربات اڑنے والے مائیکرو ڈرونز کے ساتھ بھی کیے گئے۔

روایتی موٹرز اور گیئرز کے بغیر حرکت

محققین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں روایتی موٹرز، گیئرز یا مقناطیسی پرزوں کی ضرورت نہیں پڑتی، جس کی وجہ سے مستقبل میں انتہائی چھوٹے اور ہلکے روبوٹس تیار کرنا ممکن ہوگا۔

EPFL لیبارٹری کے ڈائریکٹر کے مطابق مستقبل میں ایک ہی لچک دار ڈیوائس میں مختلف آوازوں کے لیے حساس کئی ڈھانچے نصب کیے جا سکتے ہیں، جو مخصوص فریکوئنسی کی آواز ملنے پر ڈیوائس کے مختلف حصوں کو حرکت، خم یا ارتعاش دے سکیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ایسے ایروڈائنامک روبوٹس کی تیاری میں مدد دے سکتی ہے جو آواز کے ردِعمل میں اپنی شکل یا سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

واضح رہے کہ آواز کی لہروں کو استعمال کرتے ہوئے اشیا کو فضا میں معلق رکھنے کے تجربات پہلے ہی کیے جا چکے ہیں، تاہم نئی تحقیق آواز کو انتہائی چھوٹے روبوٹک آلات کی حرکت کے لیے استعمال کرنے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔