0
اخباری میز سے شعبۂ دینیات کی سربراہی تک
اخباری میز سے شعبۂ دینیات کی سربراہی تک تحریر: انوار الحق مغل ہوش سنبھالا تو گھر میں حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنے کے لیے جس اخبار کو دیکھا، وہ روزنامہ نوائے وقت تھا۔ اس وقت اخباری صنعت اپنے عروج پر تھی اور نئے اخبارات بھی منظرِ عام پر آ رہے تھے۔ انہی دنوں روزنامہ اسلام…
اخباری میز سے شعبۂ دینیات کی سربراہی تک
تحریر: انوار الحق مغل
ہوش سنبھالا تو گھر میں حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنے کے لیے جس اخبار کو دیکھا، وہ روزنامہ نوائے وقت تھا۔ اس وقت اخباری صنعت اپنے عروج پر تھی اور نئے اخبارات بھی منظرِ عام پر آ رہے تھے۔ انہی دنوں روزنامہ اسلام کی اشاعت شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے مذہبی حلقوں میں اسے بھرپور پذیرائی حاصل ہو گئی۔ مزید یہ کہ اتوار اور بدھ کے روز بچوں اور خواتین کے لیے خصوصی اشاعتی سلسلوں کا اہتمام کیا گیا۔ بچوں کا اسلام اور خواتین کا اسلام پڑھنے والوں میں، مجھ سمیت، بہت سے ایسے قارئین تھے جو ایک مرتبہ اس مطالعے سے وابستہ ہوئے تو طویل عرصے تک اس کے گرویدہ رہے۔
ابتدا میں ہمارے گھر بچوں کا اسلام اور خواتین کا اسلام منگوایا جاتا تھا، بعدازاں والد صاحب نے روزنامہ نوائے وقت کی جگہ روزنامہ اسلام مستقل طور پر لگوا لیا۔ نہ صرف ہمارے گھر میں روزنامہ اسلام آتا تھا بلکہ گلی کے دارالمطالعہ کے لیے بھی اس اخبار کے اخراجات برداشت کیے جاتے تھے۔
روزنامہ اسلام کی اشاعت سے قبل جامعۃ الرشید کی زیرِ نگرانی ہفت روزہ ضربِ مومن بھی شائع ہوتا رہا۔ دستیاب معلومات کے مطابق، اس کی ہفتہ وار سرکولیشن 60 ہزار سے زائد تھی اور یہ جمعرات کے روز بیک وقت پاکستان کے بڑے اور چھوٹے شہروں میں دستیاب ہوتا تھا۔ ضربِ مومن ملکی و بین الاقوامی حالات پر تجزیے پیش کرتا، عالمی سطح پر ہونے والی سیاسی اور انتظامی تبدیلیوں پر تبصرے شائع کرتا اور اسلام مخالف سرگرمیوں کے حوالے سے اپنا نقطۂ نظر پیش کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سنجیدہ قارئین اس ہفت روزہ کو دلچسپی سے خریدتے اور اس کا مطالعہ کرتے تھے۔
ضربِ مومن کے قارئین جہاں اس کے جاندار تجزیوں سے مستفید ہوتے، وہیں اس میں شائع ہونے والے دینی مضامین سے بھی علمی استفادہ کرتے تھے۔ اس کے علاوہ عوامی مسائل کے شرعی حل پر مشتمل سلسلے بھی شائع ہوتے تھے، جو قارئین میں خاصی مقبولیت رکھتے تھے۔
ضربِ مومن کے قلم کاروں میں نامور صحافیوں، مؤرخین اور علمی و ادبی شخصیات کے نام شامل تھے۔ انہی شخصیات میں ایک نام مولانا عمر فاروق راشد کا بھی تھا، جو ضربِ مومن اور روزنامہ اسلام میں مختلف ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ وہ جامعۃ الرشید کی نگرانی میں تجارت اور کاروبار کے موضوعات پر شروع ہونے والے ہفت روزہ شریعہ اینڈ بزنس کے اسسٹنٹ ایڈیٹر بھی رہے۔ ضربِ مومن کے مطالعے کے دوران راقم الحروف بھی ان کے قارئین میں شامل تھا۔
وقت گزرتا گیا اور زمانے کی جدت نے جہاں دیگر شعبوں میں تبدیلیاں پیدا کیں، وہیں اخباری صنعت بھی ان تبدیلیوں سے متاثر ہوئی۔ درجنوں اخبارات اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکے، جب کہ کئی بڑے اخبارات، جن کی کبھی لاکھوں میں سرکولیشن ہوا کرتی تھی، محدود اشاعت تک سمٹ گئے۔
اسی تبدیلی کے دور میں پہلے ضربِ مومن کی اشاعت رکی اور پھر روزنامہ اسلام بھی اپنا سابقہ تسلسل برقرار نہ رکھ سکا۔ دستیاب معلومات کے مطابق، لاہور جیسے بڑے شہر سے بھی روزنامہ اسلام کی اشاعت بند ہو چکی ہے۔ بہرحال، بدلتے حالات میں وہی لوگ آگے بڑھتے ہیں جو اپنے تجربات اور صلاحیتوں کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے مستقبل کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔
مولانا عمر فاروق راشد نے بھی اپنے علمی سفر کو آگے بڑھایا، جامعہ کراچی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور یونیورسٹی کی سطح پر تدریسی فرائض انجام دینا شروع کیے۔ ان کے مطابق، ان کی پہلی درس گاہ الحمد یونیورسٹی تھی، جہاں انہوں نے 2021ء میں یونیورسٹی کی سطح پر تدریس کا آغاز کیا۔ بعدازاں مختلف جامعات میں خدمات انجام دینے کے بعد گزشتہ برس اکتوبر میں انہوں نے مسلم یوتھ یونیورسٹی (MY University) کے شعبۂ اسلامیات میں تدریسی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
اسی دوران یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامیات کے سربراہ اور ہمارے استاد ڈاکٹر محسن ضیاء قاضی دوسری یونیورسٹی منتقل ہو گئے۔ ان کی عدم موجودگی میں شعبے کی ذمہ داری عارضی طور پر فیکلٹی کے ڈین، پروفیسر ڈاکٹر منیر احمد، کے سپرد کی گئی۔ بعدازاں یونیورسٹی کی اعلیٰ قیادت نے باہمی مشاورت سے شعبۂ اسلامیات کی سربراہی باقاعدہ طور پر پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق راشد کے حوالے کر دی۔
ہمارے ایم فل کا چوتھا سمسٹر شروع ہو چکا ہے۔ راقم الحروف نے بھی تحقیقی مرحلے میں داخل ہونے سے قبل کورس ورک مکمل کرنے کے لیے کلاسوں میں شرکت کا سلسلہ جاری رکھا۔ اسی دوران ایک روز پہلے پیریڈ میں پروفیسر ڈاکٹر محمد رمضان کا لیکچر تھا، جب کہ دوسرے پیریڈ میں پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق راشد تشریف لائے۔
ان سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ دورانِ گفتگو جب یہ احساس ہوا کہ یہ وہی عمر فاروق راشد ہیں جنہیں برسوں پہلے اخبار میں پڑھا کرتا تھا اور آج وہ ایک استاد کی حیثیت سے میرے سامنے موجود ہیں، تو ایک خوشگوار احساس نے جنم لیا۔ یہ میرے لیے محض ایک استاد سے ملاقات نہیں تھی بلکہ صحافت کے مطالعے سے شروع ہونے والی ایک پرانی نسبت کا ایک نئے انداز میں سامنے آنا تھا۔
تبادلۂ خیال کے دوران ان کے اخباری سفر، علمی جدوجہد اور تدریسی زندگی کے مختلف مراحل کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئیں، انہیں قارئین کے سامنے پیش کرنے کا مقصد ایک ایسی شخصیت کے سفر کو اجاگر کرنا ہے جس نے صحافت کی دنیا میں قلمی خدمات انجام دینے کے بعد علم و تدریس کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا اور اب ایک یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامیات کی سربراہی کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔
اللہ کریم پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق راشد کے لیے اس نئی ذمہ داری کو آسان فرمائے، ان کے علم و عمل میں برکت عطا کرے اور ان کی سربراہی میں یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامیات کو دن دگنی رات چوگنی ترقی نصیب فرمائے۔ آمین۔














