0
اسلام آباد کی طالبہ لائبہ اعجاز کیس: جعلی اکاؤنٹس، مبینہ ویزا فراڈ اور 21 لاکھ روپے کی ادائیگی سے متعلق اہم انکشافات
اسلام آباد: طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی کے معاملے میں پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مرکزی ملزم نعمان نے مبینہ طور پر جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور مصنوعی ذہانت کے ٹول چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتے ہوئے طالبہ کو دھوکے میں رکھا۔ ابتدائی تحقیقات میں مبینہ ویزا فراڈ، جعلی دستاویزات اور…
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے تین مختلف اکاؤنٹس بنا رکھے تھے اور مبینہ طور پر ان کے ذریعے تین الگ الگ افراد کا کردار ادا کرتا رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لائبہ کے سوالات کے جوابات دینے کے لیے ملزم چیٹ جی پی ٹی سے مدد لیتا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق لائبہ اعجاز کا ملزم نعمان سے پہلا رابطہ مارچ 2023 میں ہوا، جب انہوں نے ایک انشورنس کمپنی میں انٹرن شپ کے لیے درخواست دی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نعمان مختلف انشورنس کمپنیوں میں مینیجر کے طور پر کام کرتا رہا، جبکہ وہ 2022 تک تقریباً 15 سال اینٹی کرپشن کے محکمے سے وابستہ رہا اور بعدازاں غیر حاضری کی بنیاد پر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق نعمان نے 2025 میں اسلام آباد کے بلیو ایریا میں ایک انشورنس کمپنی جوائن کی، جہاں اسے عملے کی ضرورت تھی۔ اس سلسلے میں اس نے لائبہ سے رابطہ کیا، تاہم ٹیوشن پڑھانے کی مصروفیت کے باعث وہ دفتر میں ملازمت شروع نہ کر سکیں۔ بعدازاں مبینہ طور پر ملزم نے ٹک شاپ کی تشہیری سرگرمیوں کے لیے لائبہ، ان کی بہن اور والدہ کو کام پر رکھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق عائزہ نامی ایک لڑکی ٹک شاپ کا انتظام سنبھالتی تھی، جبکہ اس کا بھائی امریکا میں مقیم تھا۔ لائبہ نے عائزہ کے بھائی کے ذریعے امریکی ویزے کے حصول میں مدد کی درخواست کی تو مبینہ طور پر نعمان نے عائزہ کے نام سے ایک جعلی اکاؤنٹ بنا کر لائبہ سے رابطہ شروع کر دیا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے عائزہ اور اس کے بھائی کا کردار ادا کیا اور لائبہ کو امریکی ویزے کے حصول کی یقین دہانیاں کراتا رہا۔ اس دوران مبینہ طور پر اسے مختلف دستاویزات بھی بھیجی گئیں، جن کے جعلی ہونے کا ابتدا میں لائبہ کو شبہ نہیں ہوا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے لائبہ کو امریکی ویزے کے انٹرویو کے لیے پہلے یکم ستمبر، پھر 17 ستمبر اور بعدازاں 26 ستمبر کی تاریخ بتائی۔ تاہم مسلسل تبدیلیوں کے باعث لائبہ کو شک ہوا اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد مبینہ طور پر ان کے جعلی ہونے کا انکشاف ہوا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لائبہ نے امریکی ویزے کے حصول کی امید میں اپنے والد سے 21 لاکھ روپے مالیت کا پلاٹ فروخت کروا کر رقم حاصل کی، جبکہ اپنی سوتیلی والدہ کے زیورات بھی ملزم کے حوالے کیے تھے۔
پولیس ذرائع کے مطابق جعلی دستاویزات کا معاملہ سامنے آنے کے بعد لائبہ نے ملزم سے اپنی سوتیلی والدہ کے زیورات واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ لائبہ پر زیورات واپس کرنے کے لیے دباؤ تھا، جس کے باعث انہوں نے ملزم سے کہا کہ باقی رقم کا معاملہ بعد میں دیکھا جائے گا، تاہم زیورات واپس کر دیے جائیں۔
ذرائع کے مطابق اس کے بعد نعمان نے لائبہ کو نظرانداز کرنا شروع کر دیا اور بالآخر رابطہ منقطع کر لیا۔ پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ شدید پریشانی کے دوران لائبہ نے خودکشی کر لی۔ تاہم واقعے کے تمام حالات و محرکات کی حتمی تصدیق متعلقہ تحقیقاتی اداروں کی تحقیقات اور دستیاب شواہد سے ہی ممکن ہوگی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ ملزم نعمان نے دیگر خواتین کو بھی اسی نوعیت کے فراڈ کا نشانہ بنایا ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتاری میں تاخیر کے دوران ملزم نے اپنے موبائل فون سے ڈیٹا حذف کر دیا تھا۔
پولیس اب موبائل فون کا فارنزک تجزیہ کروا کر حذف شدہ ڈیٹا بحال کرنے اور ممکنہ طور پر مزید متاثرین کی نشاندہی کرنے کی کوشش کرے گی۔
لائبہ اعجاز کیس میں سامنے آنے والے یہ انکشافات پولیس ذرائع سے منسوب ہیں۔ الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین تفتیش، دستیاب شواہد اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔














