1 جُمادى الأولى / October 12
کراچی: قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) میں مارفین کے 3 ہزار انجیکشن زائدالمیعاد ہو گئے، تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود ان کی جگہ نئے انجیکشن فراہم نہیں کیے جا سکے۔

این آئی سی وی ڈی کی دستاویزات کے مطابق ادارے نے 2023 میں مارفین کے 6 ہزار انجیکشن خریدے تھے، جن کی مدتِ استعمال نومبر 2025 میں ختم ہو گئی۔ ان میں سے 3 ہزار انجیکشن زائدالمیعاد ہو چکے ہیں، جبکہ انہیں تبدیل کرنے کا معاملہ تاحال حل نہیں ہو سکا۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق مارفین انجیکشن کے نئے اسٹاک کی فراہمی محکمہ ایکسائز و نارکوٹکس کی ذمہ داری ہے، جو اضافی ادائیگی کے بغیر فراہم کیے جائیں گے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مارفین انجیکشن کی خریداری اور واپسی کا عمل قانونی ضوابط کے تحت مکمل کیا جاتا ہے، جبکہ یہ انجیکشن بیرونِ ملک سے درآمد کیے جاتے ہیں۔

این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر صغیر نے بتایا کہ مارفین ایک درد کش دوا ہے، تاہم اس کی خریداری کا عمل پیچیدہ ہے۔ ان کے مطابق اسپتال میں مارفین کے متبادل کے طور پر دیگر درد کش ادویات استعمال کی جا رہی ہیں۔

ڈاکٹر طاہر صغیر کا مزید کہنا تھا کہ مارفین کے متبادل درد کش ادویات کی خریداری کا عمل نسبتاً آسان ہے۔

مارفین انجیکشنز کی تبدیلی میں تاخیر اور زائدالمیعاد اسٹاک کا معاملہ اسپتال میں ادویات کی خریداری، فراہمی اور انتظامی طریقۂ کار سے متعلق سوالات کو جنم دیتا ہے۔