0
پاکستانی ڈراموں کو نیٹ فلکس کی ضرورت نہیں: عروہ حسین
اداکارہ عروہ حسین نے پاکستانی ڈراموں اور مقامی کہانیوں کے معیار کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی مواد کو اپنی اہمیت منوانے کے لیے نیٹ فلکس جیسے عالمی پلیٹ فارمز سے موازنہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستانی اداکارہ عروہ حسین نے ملکی ڈرامہ انڈسٹری کے معیار اور مقامی تخلیقات کی اہمیت پر گفتگو…
اداکارہ عروہ حسین نے پاکستانی ڈراموں اور مقامی کہانیوں کے معیار کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی مواد کو اپنی اہمیت منوانے کے لیے نیٹ فلکس جیسے عالمی پلیٹ فارمز سے موازنہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
پاکستانی اداکارہ عروہ حسین نے ملکی ڈرامہ انڈسٹری کے معیار اور مقامی تخلیقات کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فن کار اور تخلیق کار اپنی صلاحیتوں کے ذریعے معیاری کام پیش کر رہے ہیں، اس لیے ان کے کام کو کسی عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارم کے معیار سے جوڑ کر دیکھنا مناسب نہیں۔
ایک انٹرویو کے دوران عروہ حسین نے اس رجحان پر تنقید کی جس میں کسی معیاری پاکستانی ڈرامے کی تعریف کرتے ہوئے اسے نیٹ فلکس کے معیار کا قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کا موازنہ پاکستانی فن کاروں کی اپنی صلاحیتوں اور تخلیقی کام کی اہمیت کو کم کر سکتا ہے۔
پاکستانی ڈراموں کا معیار اپنی بنیاد پر پرکھا جائے
عروہ حسین کا کہنا تھا کہ صرف کسی منصوبے کے کسی ایپ یا آن لائن پلیٹ فارم پر نشر ہونے سے اس کا معیار بہتر نہیں ہو جاتا۔ ان کے مطابق پاکستانی ڈراموں اور دیگر تخلیقات کو ان کے اپنے معیار، کہانی اور پیشکش کی بنیاد پر جانچنا چاہیے، نہ کہ دوسرے پلیٹ فارمز سے موازنہ کرکے۔
اداکارہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے فن کار اور تخلیق کار بھی بہترین کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کی تخلیقات کو اپنی شناخت کے ساتھ تسلیم کیا جانا چاہیے۔
پاکستانی ڈراموں کی اصل طاقت کیا ہے؟
عروہ حسین کے مطابق پاکستانی ڈراموں کی اصل طاقت ان کی کہانیاں، کام کو ترجیح دینے کا انداز اور کرداروں میں دکھائے جانے والے حقیقی جذبات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی تخلیق میں جذبات کی سچائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کہانی مؤثر ہو اور کرداروں کے احساسات حقیقت کے قریب ہوں تو وہ ناظرین کے دلوں پر اثر چھوڑ سکتی ہے، خواہ اسے کسی بھی پلیٹ فارم پر پیش کیا جائے۔
عروہ حسین کے اس مؤقف نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی اپنی شناخت، مقامی کہانیوں کی اہمیت اور تخلیقی معیار پر ایک نئی بحث کو اجاگر کیا ہے۔














