10 جُمادى الأولى / October 21

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستوں پر گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے مقررہ مدت میں جواب طلب کر لیا۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اور اٹارنی جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 14 روز کے اندر اپنے جوابات جمع کرائیں۔ کیس کی مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

درخواست گزاروں کے آئینی اعتراضات

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبائی اسمبلی کی منظوری کے بغیر ایمرجنسی نافذ کی گئی، جبکہ صدرِ مملکت کے پاس ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے۔

درخواست گزاروں کے مطابق صوبے میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کی گئی، حالانکہ اس شق کے تحت مسلح افواج کو سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے بلایا جاتا ہے۔ انہوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کے قانونی اور آئینی جواز پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

وفاقی حکومت کے وکیل کا اعتراض

سماعت کے دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے تاکہ معاملے کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔

مزید سماعت 10 نومبر کو ہوگی

پشاور ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔ آئندہ سماعت پر متعلقہ حکام کے جوابات اور درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق اعتراضات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف درخواست گزاروں کے اعتراضات تاحال عدالتی فیصلے کی صورت میں منظور یا مسترد نہیں ہوئے؛ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

متعلقہ خبریں