10 جُمادى الأولى / October 21

بلوچستان میں گندم کا سرکاری ذخیرہ ختم ہونے کے باعث آٹے کا بحران سنگین صورت اختیار کرنے لگا ہے۔ کابینہ کی منظوری کے باوجود گندم کی خریداری نہ ہو سکی، جبکہ مارکیٹ میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3 ہزار 260 روپے میں فروخت ہونے کی اطلاع ہے۔

کوئٹہ: بلوچستان میں گندم کے بحران نے شدت اختیار کر لی ہے اور محکمۂ کموڈیٹیز کے ذرائع کے مطابق صوبے میں گندم کا سرکاری ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔ گندم کی نئی خریداری میں تاخیر کے باعث آٹے کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق صوبائی کابینہ نے پاکستان ایگریکلچر اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) سے گندم کی 5 لاکھ 75 ہزار بوریاں خریدنے کی منظوری دی تھی، تاہم مختلف انتظامی مراحل کے باعث تاحال خریداری کا عمل مکمل نہیں ہو سکا۔

خریداری میں تاخیر سے مشکلات بڑھ گئیں

محکمۂ کموڈیٹیز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری ذخیرہ ختم ہونے کے باوجود نئی گندم کی خریداری نہ ہونے سے صوبے میں گندم کی فراہمی کا مسئلہ سنگین ہو رہا ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد بھی خریداری کا عمل شروع نہ ہونے پر گندم کے ذخائر کی بحالی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

فلور ملز ایسوسی ایشن کا اہم انکشاف

فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق اوپن مارکیٹ اور سرکاری گوداموں میں گندم دستیاب نہیں، جبکہ پنجاب اور سندھ سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی نقل و حمل پر پابندی کے باعث بلوچستان میں سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔

ایسوسی ایشن کے مؤقف کے مطابق گندم کی عدم دستیابی اور دوسرے صوبوں سے رسد میں رکاوٹیں آٹے کی فراہمی کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔

20 کلو آٹے کا تھیلا 3 ہزار 260 روپے میں فروخت

مارکیٹ ذرائع کے مطابق بلوچستان میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 3 ہزار 260 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ گندم کے سرکاری ذخائر ختم ہونے اور نئی خریداری میں تاخیر کے باعث آٹے کی قیمتوں اور دستیابی کے حوالے سے صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے۔

صوبے میں گندم کی خریداری کب شروع ہوگی اور پنجاب و سندھ سے رسد کی پابندیوں کے بارے میں کیا فیصلہ کیا جائے گا، اس حوالے سے مزید حکومتی وضاحت سامنے آنا باقی ہے۔

متعلقہ خبریں