3 جُمادى الأولى / October 14

چیئرمین پیپلز پارٹی کا قومی اسمبلی میں خطاب، کہا ایمرجنسی نافذ کرنا خوشی کی بات نہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہونا ہوگا۔

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی مجبوری کے تحت نافذ کی گئی ہے اور یہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ٹھوس جواز پیش کیا جاتا تو صدرِ مملکت ایمرجنسی کی سمری پر دستخط نہ کرتے۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صدرِ مملکت نے آئین کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی۔ ان کے مطابق حکومت نے اپوزیشن کو مذاکرات میں شامل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، تاہم صوبائی قیادت کے رویے کے باعث ایسے حالات پیدا ہوئے جن میں یہ اقدام کرنا پڑا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اپوزیشن کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے خودکش حملہ کیا۔ انہوں نے اس صورتحال میں پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو ٹھوس وجوہات پیش کرنی چاہیے تھیں کہ ایمرجنسی نافذ کیوں نہ کی جائے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے بتایا کہ ان کی جماعت کے دو نمائندے اس کمیٹی میں شامل تھے جو اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کر رہی تھی۔ ان کے مطابق رات گئے انہیں بتایا گیا کہ مذاکرات کامیابی کی جانب بڑھ رہے ہیں اور اپوزیشن اس بات پر متفق ہو چکی ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کا مل کر مقابلہ کرے گی۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت پر انہیں محسوس ہوا کہ ایک بڑی سیاسی کامیابی حاصل کر لی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایمرجنسی نافذ کرنا کوئی خوشی کی بات نہیں۔ جب پہلی مرتبہ یہ معاملہ صدرِ مملکت کے سامنے آیا تو اپوزیشن سے مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا تاکہ اس انتہائی اقدام سے پہلے بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کا موقع دیا جا سکے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کو متحد ہونا ہوگا، کیونکہ کوئی ایک فرد یا ادارہ تنہا دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے بھارت سے متعلق بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کہ پاکستان نے اس کے چھ طیارے گرائے۔

انہوں نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے آپریشن سندور جاری رکھنے سے متعلق بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بھارت علیحدگی پسند عناصر کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کے ان بیانات میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ، اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

نوٹ: بھارت سے متعلق بیانات اور طیارے گرائے جانے کے دعوے بلاول بھٹو زرداری سے منسوب ہیں۔ انہیں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ حقائق کے طور پر پیش کرنے سے پہلے مستند ذرائع سے جانچنا ضروری ہے