2 جُمادى الأولى / October 13

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روس سے ڈیزل خریدنے کا فیصلہ امریکی عوام کے مفاد میں کیا، ان کی پالیسی ہمیشہ ’امریکا فرسٹ‘ رہے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے ڈیزل خریدنے کے معاہدے پر ہونے والی تنقید کے باوجود اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی عوام کے مفاد میں درست انتخاب کیا ہے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق روس سے ڈیزل خریدنے کے معاہدے پر ری پبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں کے بعض رہنماؤں کے علاوہ یوکرین اور یورپی حکام نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

مخالفین کا مؤقف ہے کہ روس سے ایندھن خریدنے کی اجازت یوکرین جنگ کے تناظر میں ماسکو پر دباؤ ڈالنے کی امریکی پالیسی کو کمزور کر سکتی ہے، جبکہ اس سے روس کو مالی فائدہ پہنچنے کا بھی خدشہ ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر دعویٰ کیا کہ یورپی یونین روس سے ڈیزل کی خریداری پر 250 ارب ڈالر خرچ کر چکی ہے، تاہم امریکی میڈیا اس معاملے کو نمایاں نہیں کرتا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکی عوام کے لیے درست فیصلہ کیا ہے اور ان کی پالیسی ہمیشہ ’امریکا فرسٹ‘ رہے گی۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے 250 ارب ڈالر کے تخمینے کی مدت واضح نہیں کی۔ تاہم، یہ رقم یوکرین پر روسی حملے کے بعد یورپی یونین کی جانب سے روسی توانائی کی درآمدات پر ہونے والے اخراجات کے بعض اندازوں سے مطابقت رکھتی ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین روسی توانائی پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ روس فوری طور پر امریکا کو 3 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرے گا، جبکہ مستقبل میں مزید بڑی مقدار میں ایندھن کی فراہمی بھی متوقع ہے۔

اس معاہدے کے لیے امریکی انتظامیہ نے روسی ایندھن پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ روس سے ڈیزل کی درآمد سے امریکا میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی لانے اور کسانوں سمیت مویشی پالنے والوں کو ریلیف فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

امریکا میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث صارفین اور کاروباری طبقے کو مالی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ روس سے ایندھن کی خریداری کا معاملہ امریکی خارجہ پالیسی اور یوکرین جنگ کے تناظر میں بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔