7 رَبيع الأوّل / August 20

وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریقوں کا میز پر آنا ضروری ہے، کیونکہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں ہوا، جس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ کب مذاکرات کی میز پر آتی ہے، حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے۔

وزیراعظم نے ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 32 روپے کمی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے کئی ممالک میں ریفائنریز اور گیس پلانٹس بند ہیں۔

انہوں نے وزارتِ پیٹرولیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی صورتحال کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، تاہم حکومت نے مشکل حالات میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے 128 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

شہباز شریف کے مطابق اس رقم کا انتظام وفاقی حکومت نے پی ایس ڈی پی میں کٹوتی کے ذریعے کیا، جبکہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے صوبوں نے بھی تعاون کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت معیشت کے استحکام کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے اور عوام کو ممکنہ ریلیف فراہم کرنا ترجیحات میں شامل ہے۔

وفاقی کابینہ نے دفاعی افواج ایکٹ 2026 کے مسودے کی بھی منظوری دے دی۔

کابینہ اعلامیے کے مطابق یہ مسودہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کی گئی ترامیم کے تسلسل میں تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز سے متعلق انتظامی امور کا تعین کرنا ہے۔

اعلامیے کے مطابق کابینہ کی منظوری کے بعد دفاعی افواج ایکٹ 2026 کا مسودہ پارلیمان میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

وفاقی کابینہ نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم کی بھی منظوری دے دی ہے۔