2 رَبيع الأوّل / August 15

افغان طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ متعدد کوششوں کے باوجود یہ سمجھ نہیں آسکا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ کشیدگی سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار سید عبداللہ نظامی سے گفتگو کرتے ہوئے امیر خان متقی نے دعویٰ کیا کہ افغانستان نے پاکستان کے خلاف کوئی حملہ نہیں کیا اور نہ ہی پاکستانی سڑکوں یا تجارتی سامان کی نقل و حمل میں رکاوٹ ڈالی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان نے آمدورفت محدود کی، حملے کیے اور افغانستان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر بھی اعتراضات اٹھائے۔

امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو واضح کرنا چاہیے کہ اس کی تشویش یا مجبوری کیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاملات اس مقام تک کیوں پہنچے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ برس اکتوبر سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر مختلف حملوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود مسلح گروہوں کی جانب سے ہونے والے حملے ملکی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہیں، جبکہ پاکستان متعدد مرتبہ افغان سرزمین کو مخالف مسلح گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیے جانے کا الزام بھی عائد کر چکا ہے۔

امیر خان متقی نے ٹی ٹی پی اور بلوچ مسلح گروہوں سے متعلق پاکستانی مؤقف پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے پاکستان کے خلاف سرگرم ہے، جبکہ افغان حکومت نے سرحدی نگرانی اور کنٹرول کو ماضی کے مقابلے میں بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغان حکومت کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا چکے ہیں اور افغانستان کی طرف سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کیا جا رہا۔

دوسری جانب طالبان حکومت کے وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد نے حالیہ انٹرویو میں خبردار کیا تھا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو افغان حکومت کو اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث سرحدی سیکیورٹی، تجارت اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات مسلسل متاثر ہو رہے ہیں۔