22 رَبيع الأوّل / September 04

بھارت میں قید کشمیری رہنما یاسین ملک نے سری نگر کی عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں اپنے خلاف مقدمات پر بھارتی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مزید مقدمہ لڑنے سے انکار کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یاسین ملک نے 25 صفحات پر مشتمل حلف نامے میں 1990 کے سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں بعد انہیں ایک ایسے مقدمے میں ملوث کیا جا رہا ہے جسے وہ بے بنیاد سمجھتے ہیں۔

یاسین ملک نے اپنے حلف نامے میں مؤقف اختیار کیا کہ اگر انہیں کشمیر کے لیے سزائے موت بھی دی جاتی ہے تو وہ اسے قبول کریں گے، تاہم عدالتی سزا قبول کرنے کا مطلب جرم کا اعتراف نہیں ہوگا۔

انہوں نے بھارتی حکومت پر بھی الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ واجپائی دورِ حکومت میں بھارتی حکام کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے ان سے رابطہ کیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہی روابط کو ان کے خلاف بطور ثبوت پیش کیا گیا۔

یاسین ملک نے اپنی اہلیہ مشعال ملک کے نام پیغام میں ان کی طویل رفاقت اور حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے بہادری کے ساتھ ان کا ساتھ دیا۔

انہوں نے مشعال ملک کو اپنی رفاقت سے آزاد کرنے کا پیغام دیتے ہوئے نئی زندگی شروع کرنے کی درخواست بھی کی۔

یاسین ملک نے اپنی بیٹی رضیہ سلطانہ کو بھی ہدایت کی کہ وہ اپنی دادی سے روزانہ فون پر رابطہ رکھیں تاکہ اس مشکل وقت میں انہیں تنہائی کا احساس نہ ہو۔

واضح رہے کہ یاسین ملک 2019 سے بھارت کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ بھارتی عدالت نے 2022 میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمے میں انہیں دو مرتبہ عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی، جبکہ 1990 کے سرلا بھٹ قتل کیس سے متعلق کارروائی بھی ان کے خلاف جاری ہے۔

یاسین ملک کے تازہ حلف نامے اور عدالت میں دیے گئے مؤقف کے بعد کیس کی آئندہ کارروائی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔