21 رَبيع الأوّل / September 03

پاکستانی اداکار و پروڈیوسر سید محسن گیلانی نے جنات سے متعلق اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ’جنات کے بادشاہ‘ ہیں اور ایک جن گزشتہ 12 برس سے ان کے ساتھ موجود ہے۔

ملتان سے تعلق رکھنے والے محسن گیلانی حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے جنات سے متعلق اپنے خیالات اور مبینہ تجربات پر گفتگو کی۔

پوڈکاسٹ کے دوران محسن گیلانی نے کہا کہ اگر جنات کی بات کی جائے تو وہ خود کو ’جنات کا بادشاہ‘ سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت بھی ایک جن ان کے ساتھ موجود ہے، جس کا نام نجیب ہے اور وہ ان کے والد کے انتقال کے بعد گزشتہ 12 برس سے ان کے ساتھ ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے آباؤ اجداد کے پاس بھی جنات تھے اور قرآن کا علم رکھنے والے افراد ایسے لوگوں کے بارے میں جانتے ہیں جن کے زیرِ اثر جنات ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تعلق نسل در نسل بھی منتقل ہو سکتا ہے۔

محسن گیلانی نے کہا کہ معاشرے میں جنات کے بارے میں بہت سی غلط روایات پائی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جنات بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور ان کے بھی مختلف مذہبی فرقے ہوتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنات عام طور پر انسانوں کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ ان کے بقول جنات بچوں کے ساتھ کھیل بھی سکتے ہیں اور انسانوں سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔

محسن گیلانی کا کہنا تھا کہ انسان اپنی مرضی کے مطابق جنات کو احکامات نہیں دے سکتا کیونکہ جنات انسانوں کی خدمت کے لیے پابند نہیں ہوتے۔

اداکار نے احسن خان کا حوالہ دیتے ہوئے ایک واقعہ بھی بیان کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ احسن خان نے ایک شخص سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے انہیں رات 2 بجے ملتان میں حضرت بہاء الدین زکریا کے مزار پر اس شخص سے ملوایا۔

محسن گیلانی نے سورۂ رحمٰن کو انتہائی مؤثر اسلامی کلام قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ اس کی تلاوت کے ذریعے شفا ملنے کے تجربات بیان کرتے ہیں۔

انہوں نے صحت کے مسائل سے دوچار افراد کو سورۂ رحمٰن سننے اور پڑھنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ تلاوت کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی ضرور پڑھنا یا سننا چاہیے۔

انہوں نے سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی بھی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ سورۂ رحمٰن اور سورۂ فاتحہ مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے دو عظیم نعمتیں ہیں۔

واضح رہے کہ جنات سے متعلق محسن گیلانی کی گفتگو ان کے ذاتی دعووں اور خیالات پر مبنی ہے، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔