118
خواجہ آصف کا بیوروکریسی کے احتساب پر سوال، سیاست دانوں کو اپنی اصلاح کا مشورہ
وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں حکمراں اشرافیہ کے مختلف طبقات کو اپنے اقدامات کی قیمت چکانا پڑی، تاہم بیوروکریسی طویل عرصے تک احتساب سے محفوظ رہی۔ ایک بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان میں حکمراں اشرافیہ کے مختلف طبقات کے خلاف کرپشن، بدانتظامی اور دیگر الزامات پر…
وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں حکمراں اشرافیہ کے مختلف طبقات کو اپنے اقدامات کی قیمت چکانا پڑی، تاہم بیوروکریسی طویل عرصے تک احتساب سے محفوظ رہی۔
ایک بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان میں حکمراں اشرافیہ کے مختلف طبقات کے خلاف کرپشن، بدانتظامی اور دیگر الزامات پر کارروائیاں ہوتی رہی ہیں، لیکن بیوروکریسی کو بڑی حد تک احتساب سے استثنیٰ حاصل رہا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کو شاید ہی اس بات کا احساس ہے کہ ملک کے سیاسی نظام میں بیوروکریٹس نے بھی اہم حکمرانی کی ہے۔
انہوں نے سابق گورنر جنرل غلام محمد اور سابق وزیرِ اعظم چوہدری محمد علی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کا تعلق بیوروکریسی سے تھا۔
وفاقی وزیر نے سابق صدور سکندر مرزا اور غلام اسحاق خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب ایسے ادوار میں ہوا جب بظاہر اقتدار سیاست دانوں کے پاس تھا۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ وہ تمام بیوروکریٹس کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتے۔
ان کے مطابق سیاست دانوں کی نااہلی، باہمی اختلافات اور سیاسی کمزوریوں نے بیوروکریسی کو فیصلہ سازی اور حکمرانی میں زیادہ جگہ فراہم کی۔
وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ اگر سیاست دان اپنی اصلاح کریں اور اپنے معاملات کو بہتر بنائیں تو بیوروکریسی میں بھی خود بخود اصلاح اور احتساب کا عمل مضبوط ہوگا۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ملک میں حکمرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سیاسی قیادت اور اداروں دونوں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔








