118
گوجرانوالہ یلو لائن منصوبہ مارچ 2027 تک مکمل کرنے کی ہدایت، مریم نواز نے ڈیڈ لائن دے دی
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گوجرانوالہ یلو لائن ماس ٹرانزٹ منصوبہ ہر صورت مارچ 2027 تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کردی۔ مریم نواز کی زیرِ صدارت اجلاس میں گوجرانوالہ یلو لائن اور فیصل آباد ماس ٹرانزٹ منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے متعلقہ حکام کو دونوں منصوبے…
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گوجرانوالہ یلو لائن ماس ٹرانزٹ منصوبہ ہر صورت مارچ 2027 تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کردی۔
مریم نواز کی زیرِ صدارت اجلاس میں گوجرانوالہ یلو لائن اور فیصل آباد ماس ٹرانزٹ منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے متعلقہ حکام کو دونوں منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
مریم نواز نے کہا کہ منصوبوں کی تکمیل کی ٹائم لائن کسی صورت آگے نہیں جانی چاہیے۔ شہری پہلے ہی تعمیراتی کاموں کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے منصوبوں پر کام تیز کیا جائے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے منصوبوں کی رفتار بڑھانے کے لیے تین شفٹوں میں کام جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ گوجرانوالہ یلو لائن منصوبہ 31.5 کلومیٹر طویل ہوگا، جس پر مجموعی طور پر 25 اسٹیشنز تعمیر کیے جائیں گے، جن میں 2 اسٹیشن زیرِ زمین ہوں گے۔
منصوبے میں 12 انڈر پاسز، 35 کلومیٹر سروس لائن اور سگنل فری یوٹرنز بھی شامل ہیں۔
بریفنگ کے مطابق گوجرانوالہ یلو لائن منصوبے کا تقریباً ایک تہائی کام مکمل ہوچکا ہے، جبکہ 1,233 بجلی کے کھمبے اور 552 ٹرانسفارمرز بھی منتقل کیے جاچکے ہیں۔
منصوبے کے تحت 15 ہزار فٹ سیوریج لائن، 12 ہزار فٹ پانی کی فراہمی کی لائن اور 11 ہزار فٹ گیس پائپ لائن بچھانے کا کام بھی کیا جائے گا۔
گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ سسٹم کے لیے 62 کلومیٹر ڈرین کی تعمیر کا تقریباً 40 فیصد کام مکمل ہونے کی بھی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ گوجرانوالہ اور فیصل آباد ماس ٹرانزٹ منصوبوں کے دوران تقریباً 5 ہزار درختوں کی دوبارہ شجرکاری بھی کی گئی ہے۔
مریم نواز نے ترقیاتی منصوبوں کے دوران درختوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر درخت کی حفاظت ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ حکومت کو عوام کو درپیش مشکلات کا مکمل اندازہ ہے، اسی لیے ماس ٹرانزٹ منصوبوں کی بروقت تکمیل ضروری ہے تاکہ شہریوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔








