7 رَبيع الأوّل / August 20

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے فیصلے سے متعلق چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے دائر نظرِ ثانی درخواست اعتراض عائد کرکے واپس کردی۔

ذرائع کے مطابق رجسٹرار آفس نے نظرِ ثانی درخواست پر مختلف اعتراضات عائد کیے ہیں، جن میں درخواست کے ساتھ پیپر بُکس مکمل نہ ہونے کا اعتراض بھی شامل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرنے کے بعد نظرِ ثانی درخواست دوبارہ سپریم کورٹ میں دائر کی جائے گی۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرِ ثانی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے ذریعے دائر کی گئی تھی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عبوری حکم جاری کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی، تاہم یہ حکم عدالت کے اختیارِ سماعت سے تجاوز ہے، اس لیے اس پر نظرِ ثانی کی جائے۔

درخواست میں مزید مؤقف اپنایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو 5 اگست 2023 کو ایڈیشنل سیشن جج نے تین سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔

درخواست کے مطابق دورانِ سماعت بانی پی ٹی آئی کی جانب سے علاج کے لیے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی درخواست بھی دی گئی، جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے 12 مارچ کو مسترد کردیا تھا۔ بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔