22 رَبيع الأوّل / September 04

سابق وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ کسی سربراہِ مملکت کے درمیان ہونے والا محض معاہدہ نہیں بلکہ عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے، اس لیے ایران کو بھی اس میں شامل ہونا چاہیے۔

لاہور میں مکہ دفاعی معاہدے پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خورشید محمود قصوری نے کہا کہ مکہ معاہدہ ماضی میں ہونے والے معاہدوں سے مختلف نوعیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ ایران مخالف نہیں ہے اور پاکستان ہمیشہ ایران اور ایرانی عوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ امریکا کے خلاف بھی نہیں۔

سابق وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، تاہم موجودہ اتحاد عالمی نظام میں تبدیلی کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔

خورشید محمود قصوری نے امید ظاہر کی کہ مکہ معاہدے کے ثمرات عام آدمی تک بھی پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر مختلف شعبوں میں کردار ادا کیا، تاہم اس کے مطلوبہ فوائد حاصل نہیں کیے جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ اس معاہدے کے ذریعے نوجوانوں کو جدید مہارتیں فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جانے چاہییں تاکہ نئی نسل اس تعاون سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے۔

خورشید محمود قصوری نے مزید کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ مسلمانوں کی تاریخ اور باہمی تعاون کے تصور سے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔