25 رَبيع الثاني / October 06

سیئول: جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے ملک کے بڑے بینکس اور مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانے والے سائبر حملوں کی فوری اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

جنوبی کوریا کے حکام کے مطابق بعض سائبر حملوں میں مصنوعی ذہانت کے جدید نظام استعمال کیے جانے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس کے بعد مالیاتی اداروں کی سائبر سیکیورٹی پر تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔

مالیاتی حکام کے مطابق شنہان بینک، کے بی کوک من بینک سمیت کئی بڑے بینک سائبر حملوں کا نشانہ بنے ہیں، جبکہ ہانا بینک اور ووری بینک بھی ان حملوں سے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

حکام کے مطابق سائبر حملوں کے نتیجے میں دسیوں ہزار صارفین کے ذاتی ڈیٹا، قرض کی درخواستوں، رابطے کی معلومات اور بعض مالی تفصیلات کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تاہم متاثرہ ڈیٹا کی مکمل نوعیت اور نقصان کی حتمی حد ابھی واضح نہیں کی گئی۔

مالیاتی نگران اداروں اور پولیس نے معاملے کی مشترکہ ہنگامی تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ ملک بھر کے مالیاتی اداروں کو اپنے سائبر سیکیورٹی نظام کی جامع جانچ اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکام نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ مبینہ حملوں میں مصنوعی ذہانت کے کون سے ذرائع یا نظام استعمال کیے گئے اور کتنے صارفین کا ڈیٹا متاثر ہوا ہے۔

صدر لی جے میونگ نے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے دور میں سائبر سیکیورٹی کے موجودہ طریقۂ کار کو جدید بنایا جائے اور خودکار سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے نئی دفاعی صلاحیتیں فوری طور پر تیار کی جائیں۔

دوسری جانب حالیہ مہینوں میں آسٹریلیا اور کینیڈا میں بھی مصنوعی ذہانت سے منسلک سائبر حملوں کی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ ان کے نظام میں مداخلت کے شواہد نہیں ملے۔