11 رَبيع الثاني / September 22

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ عالمی امن و سلامتی کے قیام میں ناکامی کے باعث اقوامِ متحدہ پر عالمی برادری کا اعتماد کم ہو چکا ہے یا مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔

عباس عراقچی نے یہ بیان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچنے کے بعد دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں جنگ کے اثرات اور کشیدگی برقرار ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق ایران کا بنیادی مقصد اقوامِ متحدہ جیسے بڑے عالمی پلیٹ فارم کو ایرانی عوام کے مؤقف، حقوق اور مفادات کے دفاع کے لیے استعمال کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی کا اجلاس اس مرتبہ ’اعتماد کی بحالی‘ کے عنوان سے شروع ہو رہا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے مؤثر قیام میں ناکامی کے باعث عالمی اداروں پر اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ بعض ممالک خود کو بین الاقوامی قوانین، عالمی اداروں اور انسانی اقدار سے بالاتر سمجھتے ہیں اور اپنے ساتھ ساتھ اتحادی ممالک کے لیے بھی استثنیٰ چاہتے ہیں۔

انہوں نے اسرائیل کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اسے اپنی مرضی سے کارروائیاں کرنے کی اجازت حاصل ہے، جبکہ ان کے بقول مغربی اور یورپی ممالک، جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے علم بردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، اس معاملے پر خاموش ہیں۔