118
شام میں خفیہ جوہری سرگرمیوں کا انکشاف، آئی اے ای اے نے ری ایکٹر کی موجودگی کی تصدیق کردی
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے تصدیق کی ہے کہ سابق شامی صدر بشار الاسد کے دورِ حکومت میں ملک کے مشرقی صوبے دیر الزور میں ایک جوہری ری ایکٹر تعمیر کیا جا رہا تھا۔ عرب میڈیا کے مطابق آئی اے ای اے کی جانب سے جاری کی گئی خفیہ رپورٹ…
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے تصدیق کی ہے کہ سابق شامی صدر بشار الاسد کے دورِ حکومت میں ملک کے مشرقی صوبے دیر الزور میں ایک جوہری ری ایکٹر تعمیر کیا جا رہا تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق آئی اے ای اے کی جانب سے جاری کی گئی خفیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ادارے کی ٹیم نے اگست میں شام کے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور وہاں موجود جوہری سرگرمیوں سے متعلق تصدیقی عمل مکمل کیا۔
رپورٹ کے مطابق دیر الزور کے مقام پر موجود کولنگ سسٹم کی ساخت جوہری ری ایکٹر کے نظام سے مطابقت رکھتی ہے۔
آئی اے ای اے نے کہا ہے کہ مقام پر کھدائی اور مزید تحقیقات کا عمل جاری رہنے کے ساتھ ساتھ ادارہ اس جگہ کی نگرانی بھی کرتا رہے گا۔
واضح رہے کہ بشار الاسد حکومت کے دور میں شام میں ایک خفیہ جوہری پروگرام کے حوالے سے طویل عرصے سے شکوک و شبہات موجود تھے۔
عرب میڈیا کے مطابق دیر الزور میں شمالی کوریا کی مبینہ مدد سے تعمیر کیے جانے والے ری ایکٹر کا انکشاف 2007ء میں ہوا تھا، جب اسرائیل نے فضائی حملے کے ذریعے اس تنصیب کو تباہ کر دیا۔
بعد ازاں شام نے اس مقام کو مسمار کر دیا، تاہم آئی اے ای اے کے مطابق سابق شامی حکام نے جوہری مواد اور سرگرمیوں سے متعلق ادارے کے سوالات کے مکمل جوابات فراہم نہیں کیے۔
آئی اے ای اے کے مطابق ادارے نے 2024ء میں دیر الزور کے مقام سے نمونے حاصل کیے تھے، جن میں یورینیئم کے ذرات موجود ہونے کی تصدیق ہوئی۔
ادارے نے دیر الزور کے ری ایکٹر کے علاوہ ایندھن تیار کرنے والی ایک تنصیب اور جوہری ایندھن، یورینیئم کے باقی ماندہ مواد اور فضلے کے ذخیرے سے متعلق ایک مقام کی بھی نشاندہی کی ہے۔
دسمبر 2024ء میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد نئی شامی انتظامیہ نے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو مشتبہ سابق جوہری مقامات تک رسائی دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
دورۂ شام کے دوران آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی اور اعلیٰ معائنہ کاروں کی ٹیم نے ایک ایسے مقام کا بھی دورہ کیا جس کے بارے میں پہلے ادارے کو اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
نئی شامی انتظامیہ نے 17 جولائی کو خط کے ذریعے اس مقام کی موجودگی سے آئی اے ای اے کو آگاہ کیا اور وہاں موجود ممکنہ جوہری مواد کی جانچ اور تصدیق کے لیے تعاون کی پیشکش کی۔
آئی اے ای اے کے مطابق مذکورہ مقام پر قدرتی یورینیئم سے تیار کردہ ایندھن کی سلاخیں موجود تھیں۔
معائنہ کاروں نے تقریباً 73 ٹن قدرتی یورینیئم کی موجودگی کی تصدیق کی ہے، جسے فی الحال ادارے کی نگرانی اور حفاظتی انتظامات کے تحت رکھا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق نئی شامی حکومت نے شہری جوہری توانائی کا پروگرام تیار کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
شامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ملک میں موجود تمام جوہری مواد شام کی تحویل میں رہے گا اور اسے بین الاقوامی حفاظتی نگرانی کے تابع رکھا جائے گا۔








