118
میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن میں بزنس پارٹنر سے چرس کے سگریٹ سے متعلق سخت سوالات
میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی کارروائی جاری ہے، جس کے دوران مقتول کے بزنس پارٹنر احمد بھردے سے کاروباری معاملات، میر رضا کی گمشدگی اور اس کے کمرے سے متعلق مختلف سوالات کیے گئے۔ میر رضا کے اہلِ خانہ وکیل جبران ناصر کے ہمراہ کمیشن میں پیش ہوئے،…
میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی کارروائی جاری ہے، جس کے دوران مقتول کے بزنس پارٹنر احمد بھردے سے کاروباری معاملات، میر رضا کی گمشدگی اور اس کے کمرے سے متعلق مختلف سوالات کیے گئے۔
میر رضا کے اہلِ خانہ وکیل جبران ناصر کے ہمراہ کمیشن میں پیش ہوئے، جبکہ سندھ حکومت کے فوکل پرسن ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، ایس ڈی پی او شارع فیصل ارشد آفریدی اور ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال بھی کارروائی میں موجود تھے۔
مقتول کے بزنس پارٹنر احمد بھردے، عبداللہ، دوست رازق اور حیثم جبکہ میر رضا کو رائیڈز فراہم کرنے والے ڈرائیور احسان علی بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔
کمیشن نے احمد بھردے سے پوچھا کہ وہ میر رضا کو کب سے جانتے ہیں۔ احمد بھردے نے بتایا کہ وہ میر رضا کو بچپن سے جانتے ہیں اور دونوں پہلی جماعت سے ساتھ تھے۔
کاروباری تعلقات سے متعلق سوال پر احمد بھردے نے بتایا کہ دونوں نے 2020 میں مشترکہ کاروبار شروع کیا تھا۔ ان کے مطابق کاروبار میں ڈیزرٹ شاپ کی دو برانچز اور دو کلاؤڈ کچن شامل تھے۔
احمد بھردے نے بتایا کہ کاروبار کے آغاز پر پارٹنر ڈیڈ تیار کی گئی تھی اور دونوں مل کر کاروباری معاملات چلاتے تھے۔ ان کے مطابق میر رضا کا گھر بہادر آباد کے قریب ہونے کی وجہ سے وہ وہاں سے بعض کاروباری معاملات دیکھتا تھا۔
کمیشن کے سوال پر احمد بھردے نے بتایا کہ کاروبار اچھی طرح چل رہا تھا اور کسی نقصان کا سامنا نہیں تھا۔ دونوں نے ذاتی اخراجات کے لیے روزانہ 5 ہزار روپے نکالنے پر اتفاق کیا تھا، جبکہ اضافی رقم کی ضرورت ہونے پر پارٹنر کو آگاہ کیا جاتا تھا۔
میر رضا کی گمشدگی کے دوران صبح 8 بجے اس کے گھر جانے سے متعلق سوال پر احمد بھردے نے بتایا کہ وہ اپنی کار میں میر رضا کے گھر گیا تھا۔ کمیشن نے اس کے سابقہ بیان میں دو گاڑیوں کے ذکر سے متعلق بھی سوالات کیے۔
احمد بھردے کے مطابق میر رضا کے گھر پہنچنے پر منیجر شیری، کاظم، رازق اور حیثم بھی وہاں موجود تھے۔ کمیشن نے میر رضا کے کمرے میں جانے اور وہاں موجود اشیا سے متعلق بھی تفصیلات دریافت کیں۔
چرس والے سگریٹ کا ذکر
کارروائی کے دوران احمد بھردے نے بتایا کہ میر رضا اپنی شیلف میں سگریٹ کے پیکٹ رکھتا تھا اور بعض اوقات ان میں چرس بھی موجود ہوتی تھی۔
چرس کا ذکر سامنے آنے پر کمیشن نے احمد بھردے سے سوال کیا کہ اس تفصیل کو بیان کرنا کیوں ضروری سمجھا گیا؟ کمیشن نے یہ بھی پوچھا کہ اسے کیسے معلوم تھا کہ سگریٹ کے پیکٹ میں چرس موجود ہوتی تھی اور کیا اس نے کبھی چرس دیکھی تھی۔
کمیشن نے احمد بھردے سے میر رضا کے کمرے کی تلاشی لینے کی ضرورت اور ذاتی جگہ میں داخل ہونے سے متعلق بھی سخت سوالات کیے۔
احمد بھردے نے کمیشن کو بتایا کہ وہ خود کو کلیئر کرنے کے لیے پیش ہوا ہے۔
جوڈیشل کمیشن کی جانب سے کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ کارروائی کے دوران سامنے آنے والے بیانات اور شواہد کی بنیاد پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔








