119
جیسن گلیسپی کا پاکستان کرکٹ میں عاقب جاوید کے کردار پر سخت ردعمل
پاکستان ریڈ بال کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے پاکستان کرکٹ کے معاملات پر ایک بار پھر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور عاقب جاوید کے کردار سے متعلق کئی دعوے کیے ہیں۔ جیسن گلیسپی کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے ذمے اب…
پاکستان ریڈ بال کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے پاکستان کرکٹ کے معاملات پر ایک بار پھر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور عاقب جاوید کے کردار سے متعلق کئی دعوے کیے ہیں۔
جیسن گلیسپی کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے ذمے اب بھی ان کے ہزاروں ڈالرز واجب الادا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور آئندہ بھی ایسا نہیں کریں گے۔
سابق ہیڈ کوچ کے مطابق وہ خاموش رہ کر ہر بات قبول کرنے والے شخص نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اندازہ تھا کہ چند ماہ بعد انہیں عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے، تاہم وہ خاموش رہ کر صرف تنخواہ لینے کے لیے پاکستان میں نہیں تھے۔
جیسن گلیسپی نے دعویٰ کیا کہ عاقب جاوید کی جانب سے ان کے خلاف منفی گفتگو سے وہ تنگ آچکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو وہ عاقب جاوید کے خلاف قانونی کارروائی بھی کرسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورتحال دیکھ کر انہیں دکھ ہوتا ہے اور ان کے مطابق پاکستان کرکٹ ایک نقصان دہ چکر میں پھنس چکی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کرکٹ کے مسائل کی ایک بڑی وجہ عاقب جاوید کا کردار ہے۔
جیسن گلیسپی کے مطابق پاکستان میں کوچنگ کا تجربہ ان کے کیریئر کی بڑی کامیابیوں میں شامل ہوسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ شاندار ہے اور یہاں لوگ کرکٹ کے لیے جیتے ہیں۔
سابق کوچ نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان ٹیسٹ ٹیم کو بہتر بنانے کے موقع کے طور پر کوچنگ کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ان کے مطابق پاکستان میں فاسٹ بولنگ کو دوبارہ مضبوط بنانا بھی ان کے مینڈیٹ کا حصہ تھا اور وہ ایسی پچز تیار کرنا چاہتے تھے جو باؤنس اور فاسٹ بولنگ کو سپورٹ کریں۔
جیسن گلیسپی کا دعویٰ ہے کہ عاقب جاوید کی تقرری کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی اور وہ پاکستان کرکٹ کے معاملات میں انتہائی بااثر ہوگئے۔ ان کے مطابق سلیکشن کے معاملات میں بھی ان کا کردار محدود ہوگیا تھا، جس نے انہیں پاکستان میں کوچنگ کے تجربے سے بددل اور ذہنی طور پر متاثر کیا۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ عاقب جاوید نے پہلی ملاقات میں اپنی بالادستی ظاہر کرنے کی کوشش کی اور وہ دوسروں کی رائے یا تجاویز قبول نہیں کرتے تھے۔ جیسن گلیسپی کے مطابق چیئرمین اور بورڈ کی حمایت نے بھی عاقب جاوید کی پوزیشن مضبوط کی۔
سابق ہیڈ کوچ نے کہا کہ ایسا ماحول کسی بھی عزت دار شخص کے لیے قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عاقب جاوید کا ان کے اور گیری کرسٹن کے معاہدوں پر تبصرہ کرنا ان کا کام نہیں تھا، جبکہ وہ اور گیری کرسٹن پاکستان میں ٹریننگ کیمپس کے لیے وقت دینے کو تیار تھے۔
جیسن گلیسپی نے وسیم اکرم اور وقار یونس کو اپنے ہیروز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے ملاقات کے دوران انہیں محبت اور احترام کا احساس ہوا، تاہم عاقب جاوید سے ملاقات کے حوالے سے ان کا تجربہ مختلف رہا۔
انہوں نے موجودہ کوچنگ سیٹ اپ سے متعلق مائیک ہیسن کو بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنے فیصلوں پر اعتماد کریں اور کسی کی ہاں میں ہاں نہ ملائیں۔ جیسن گلیسپی نے امید ظاہر کی کہ مائیک ہیسن معاملات میں صرف تنخواہ کی خاطر نہیں الجھیں گے۔
واضح رہے کہ جیسن گلیسپی کی جانب سے عاقب جاوید اور پاکستان کرکٹ کے حوالے سے کیے گئے یہ دعوے ان کے بیان پر مبنی ہیں، جبکہ عاقب جاوید یا پاکستان کرکٹ بورڈ کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں معاملے کی مزید وضاحت ہوسکتی ہے۔








