3 جُمادى الأولى / October 14

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے اوپن اے آئی کے سابق انجینئر عبدالرحمٰن الفوزان کو دفتر میں مبینہ طور پر خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس نصب کرنے کے معاملے میں گرفتار کر لیا۔ ابتدائی فرانزک تحقیقات میں کمپنی کے اے آئی ماڈلز، بنیادی کوڈ یا صارفین کے ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی کے شواہد نہیں ملے۔

امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے اوپن اے آئی کے سابق انجینئر عبدالرحمٰن الفوزان کو دفتر میں خفیہ ریکارڈنگ کے لیے آلہ نصب کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمۂ انصاف نے بتایا کہ اوپن اے آئی کو 30 ستمبر کو سان فرانسسکو میں واقع اپنے ایک دفتر کے انتظامی اجلاسوں کے کمرے میں ٹیلی ویژن کے پچھلے حصے سے منسلک ایک یو ایس بی آلہ ملا، جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ٹیلی ویژن کے پیچھے ریکارڈنگ ڈیوائس ملنے کا انکشاف

رپورٹ کے مطابق برآمد ہونے والا آلہ انگوٹھے کے حجم کا تھا اور اس میں مائیکروفون موجود تھا۔ بتایا گیا کہ یہ کیمرے سے بھی منسلک ہو سکتا تھا۔ آلہ مبینہ طور پر ٹوائلٹ پیپر میں چھپایا گیا تھا اور اسے 28 ستمبر کے آس پاس نصب کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق ڈیوائس میں محفوظ معلومات خفیہ تھیں اور ابتدائی طور پر ان تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔ واقعے کے بعد کمپنی نے آلے کی نوعیت اور اس کے ممکنہ استعمال کا جائزہ لینا شروع کیا۔

اوپن اے آئی کے نظام سے ملزم کی شناخت میں مدد ملی

دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق اوپن اے آئی نے اپنے مصنوعی ذہانت کے نظام کی مدد سے آلے کا تجزیہ کیا اور مبینہ طور پر اسے نصب کرنے والے ملازم کی شناخت کی۔

رپورٹ کے مطابق کمپنی نے فوری طور پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کو اطلاع دی، جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ کمپنی نے مبینہ واقعے کے بعد اسے ملازمت سے بھی برطرف کر دیا۔

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق 35 سالہ عبدالرحمٰن الفوزان جولائی 2025ء سے اوپن اے آئی میں بطور انجینئر کام کر رہے تھے۔

ملزم کے ذاتی بیگ سے بھی آلہ برآمد

تفتیش کاروں کے مطابق عبدالرحمٰن الفوزان کے ذاتی بیگ سے بھی اسی نوعیت کا ایک مخصوص ساخت کا آلہ برآمد کیا گیا ہے۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ان آلات کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا اور آیا اس معاملے میں مزید شواہد موجود ہیں۔

کمپنی کے اے آئی ماڈلز اور صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کے شواہد نہیں ملے

حکام اور کمپنی کے نمائندوں کے مطابق ابتدائی فرانزک تحقیقات میں ایسے شواہد سامنے نہیں آئے کہ ملزم نے اوپن اے آئی کے ملکیتی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، ان کے بنیادی کوڈ یا صارفین کے ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کی ہو یا یہ معلومات کمپنی سے باہر منتقل کی ہوں۔

تاحال فراہم کردہ رپورٹ میں واقعے سے متعلق الزامات کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، تاہم ملزم کے خلاف الزامات کو ثابت شدہ جرم نہیں سمجھا جا سکتا۔ معاملے کی مزید تفصیلات اور قانونی کارروائی سے متعلق معلومات سامنے آنے پر صورتِ حال واضح ہو سکے گی۔