7 رَبيع الأوّل / August 20

سندھ پولیس کے فارنزک یونٹ میں اسلحے اور گولیوں کے خول کا سائنسی تجزیہ کرنے والا جدید آئی بی آئی ایس سسٹم گزشتہ 3 سال سے غیر فعال ہے، جس کے باعث میر رضا قتل کیس سمیت سیکڑوں مقدمات میں بیلسٹک شواہد کا جدید سائنسی تجزیہ نہیں ہوسکا۔

ذرائع کے مطابق میر رضا کیس میں ملنے والے گولی کے خول کا فی الحال مینوئل طریقے سے تجزیہ کیا گیا، جس میں صرف یہ رپورٹ سامنے آئی کہ خول 30 بور پستول کی گولی کا ہے۔

آئی بی آئی ایس سسٹم کیا ہے؟

انٹیگریٹڈ بیلیسٹک آئیڈینٹیفکیشن سسٹم (IBIS) ایک جدید فارنزک ٹیکنالوجی ہے جو اسلحے سے فائر کی گئی گولیوں اور خولوں پر موجود خوردبینی نشانات کی ڈیجیٹل تصاویر محفوظ کرتی ہے۔

یہ نظام حاصل شدہ تصاویر سے مخصوص الیکٹرانک سگنیچر تیار کرتا ہے، جس کے بعد آئی بی آئی ایس نیٹ ورک کے ذریعے مختلف گولیوں اور خولوں کے نشانات کا موازنہ کیا جاتا ہے۔

اس عمل سے ممکنہ طور پر ایک ہی اسلحے سے فائر کیے گئے خولوں یا گولیوں کی نشاندہی میں مدد ملتی ہے۔ بعد ازاں حاصل ہونے والے نتائج فارنزک ماہرین کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، جو مماثلت کی حتمی تصدیق کرتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سندھ پولیس کا آئی بی آئی ایس سسٹم گزشتہ 3 سال سے بند ہے، جس کی بنیادی وجہ متعلقہ غیر ملکی کمپنی کو واجبات کی عدم ادائیگی اور سسٹم کی تجدید نہ ہونا بتائی جاتی ہے۔

یہ مشین ایک غیر ملکی کمپنی کی ٹیکنالوجی پر کام کرتی ہے اور اس کا سافٹ ویئر عام طور پر کاپی یا مقامی سطح پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

ذرائع کے مطابق مشین کی خریداری کے وقت سالانہ فیس اور سسٹم کی دیکھ بھال کے اخراجات کو بھی مدنظر رکھا گیا تھا، تاہم بعد میں باقاعدہ ادائیگی کا مسئلہ برقرار رہا۔

سندھ پولیس کے لیے غیر ملکی کمپنی کو ادائیگی کے لیے فارن کرنسی اکاؤنٹ کا مسئلہ بھی ایک رکاوٹ بتایا جاتا ہے، جبکہ روایتی طریقہ کار کے تحت ادائیگی میں طویل کاغذی کارروائی کے باعث بھی تاخیر ہوتی رہی۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کے مطابق فارنزک یونٹ میں موجود آئی بی آئی ایس مشین کی سالانہ فیس بہت زیادہ ہے، جس کے باعث یہ سسٹم فی الحال بند ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس کے آئی ٹی ماہرین آئی بی آئی ایس کے متبادل سافٹ ویئر کی تیاری پر کام کر رہے ہیں، جو موجودہ نظام کے برابر بلکہ اس سے بہتر نتائج دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

ماہرین کے مطابق جدید بیلسٹک نظام کی بحالی یا مؤثر متبادل کی تیاری سے فائرنگ اور قتل کے مقدمات میں دستیاب گولیوں اور خولوں کے شواہد کا سائنسی تجزیہ مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔