6 رَبيع الأوّل / August 19

درخواست چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے ذریعے دائر کی گئی ہے، جس میں سپریم کورٹ کے 18 اگست کے عبوری حکم پر نظرِثانی کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت کا عبوری حکم اختیارِ سماعت سے تجاوز کرتا ہے، اس لیے اس پر نظرِثانی کی ضرورت ہے۔

درخواست کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو 5 اگست 2023 کو ایڈیشنل سیشن جج نے 3 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔

درخواست میں بتایا گیا ہے کہ دورانِ سماعت بانی پی ٹی آئی کی جانب سے علاج کے لیے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی درخواست کی گئی تھی، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے 12 مارچ کو یہ درخواست مسترد کردی، جس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔

چیف کمشنر اسلام آباد کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ بعض حالات میں قیدی کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے حکومت کی منظوری اور آئی جی جیل خانہ جات کے ذریعے کارروائی ضروری ہوتی ہے۔

درخواست کے مطابق اسپتال منتقل کیے جانے والے قیدی کی پولیس نگرانی بھی لازم ہے جبکہ پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 197 میں قیدی کو جیل سے باہر اسپتال منتقل کرنے کا طریقہ کار واضح کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کا حق دیتا ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاملہ پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے سامنے مقرر ہوا اور متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری نہیں کیے گئے۔

حکومت کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ پہلے بھی باقاعدگی سے ہوتا رہا ہے اور میڈیکل بورڈ متعدد مرتبہ ان کا علاج کرچکا ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ صحت سے متعلق کسی فیصلے سے قبل عدالت کو طبی ماہرین کی رائے حاصل کرنی چاہیے تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی کا تمام میڈیکل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے انہیں شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور بانی پی ٹی آئی کو سخت سیکیورٹی میں اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ اسپتال منتقلی کے دوران امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے۔