118
ایران کی امریکا کو دھمکی، حملوں کے لیے سہولت دینے والے ممالک کو خبردار کردیا
ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل علی عبداللہی نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر امریکی حملوں کے لیے اپنی سرزمین یا سہولت فراہم کرنے والے ممالک کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ ایک بیان میں علی عبداللہی نے کہا کہ امریکی فوج کو کسی بھی قسم کی سہولت فراہم کرنا ایران…
ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل علی عبداللہی نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر امریکی حملوں کے لیے اپنی سرزمین یا سہولت فراہم کرنے والے ممالک کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
ایک بیان میں علی عبداللہی نے کہا کہ امریکی فوج کو کسی بھی قسم کی سہولت فراہم کرنا ایران کے خلاف جنگ میں شرکت کے مترادف سمجھا جائے گا۔
ایرانی اعلیٰ فوجی کمانڈر کا کہنا تھا کہ امریکا کو اپنی سرزمین سے ایران پر حملے کرنے کی اجازت دینے والے ممالک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایران سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران خطے میں ہونے والی کسی بھی فوجی سرگرمی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور امریکی فوج کو سہولت فراہم کرنے والے ممالک کو اپنے فیصلوں کے ممکنہ نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
ایران کا امریکی اثاثوں سے متعلق ممکنہ حکمتِ عملی کا جائزہ
دوسری جانب برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی افواج نے امریکا کے ساتھ تنازع مزید بڑھنے کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ سے باہر موجود امریکی اثاثوں کو نشانہ بنانے کے مختلف امکانات کا جائزہ لیا ہے۔
فنانشل ٹائمز نے ایرانی حکومت کے قریب ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ تہران تنازع کی شدت میں اضافے کی صورت میں مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی افواج نے جنوب مشرقی یورپ، بشمول بلغاریہ میں موجود امریکی فوجی اثاثوں کے خلاف ممکنہ کارروائی کے امکانات کا جائزہ لیا ہے۔
رپورٹ میں قبرص کو بھی ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کی صورت میں زیرِ غور آنے والے اہداف میں شامل بتایا گیا ہے۔
ایرانی حکام کے بیانات اور فنانشل ٹائمز کی رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے خدشات برقرار ہیں اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور اتحادی ممالک کے کردار پر بھی توجہ مرکوز ہے۔








