118
ایئر انڈیا پائلٹ کا مبینہ بھنگ ٹیسٹ مثبت، طیارے کے اچانک نیچے آنے سے تعلق پر سوالات
ایئر انڈیا کے ایک پائلٹ کے پرواز کے بعد مبینہ طور پر بھنگ کے استعمال کا ٹیسٹ مثبت آنے کی اطلاعات نے فضائی سفر کی حفاظت اور طیارے کے اچانک نیچے آنے کے واقعے سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم اس نتیجے کی تاحال سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ چار اگست کو…
ایئر انڈیا کے ایک پائلٹ کے پرواز کے بعد مبینہ طور پر بھنگ کے استعمال کا ٹیسٹ مثبت آنے کی اطلاعات نے فضائی سفر کی حفاظت اور طیارے کے اچانک نیچے آنے کے واقعے سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم اس نتیجے کی تاحال سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
چار اگست کو ایئر انڈیا کا ایئربس اے320 طیارہ فوکٹ سے نئی دہلی جا رہا تھا کہ دورانِ پرواز اچانک تقریباً 91 میٹر (300 فٹ) نیچے آ گیا۔ واقعے کے نتیجے میں 13 مسافر اور عملے کے 4 ارکان زخمی ہوئے۔
طیارے میں 137 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے اور طیارہ بعد ازاں بحفاظت دہلی میں لینڈ کر گیا۔ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
بھارتی وزارتِ شہری ہوا بازی کے مطابق دونوں پائلٹس کے پرواز کے بعد معمول کے مطابق نفسیاتی اثر رکھنے والے مادّوں کے استعمال سے متعلق ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ وزارت کے مطابق کپتان کے ابتدائی ٹیسٹ میں ایسا نتیجہ سامنے آیا جس کے بعد مزید تصدیقی تحقیقات ضروری قرار دی گئیں۔
وزارت نے بتایا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک دونوں پائلٹس کو پرواز سے روک دیا گیا ہے۔
بعد ازاں مختلف میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ لیبارٹری میں کیے گئے تصدیقی ٹیسٹ میں کپتان کا ماریجوانا یعنی بھنگ کے استعمال کا ٹیسٹ مثبت آیا۔ تاہم ایئر انڈیا نے اس نتیجے کی تاحال تصدیق نہیں کی۔
ماہرین کے مطابق کسی شخص کے جسم میں کسی مادے کے آثار ملنا لازمی طور پر اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ پرواز کے وقت نشے کی حالت میں تھا۔ ڈرگ ٹیسٹ کے نتائج کی نوعیت، وقت اور دیگر شواہد کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
اب تک کوئی سرکاری نتیجہ سامنے نہیں آیا جس میں پائلٹ کے مبینہ مثبت ڈرگ ٹیسٹ کو طیارے کے اچانک نیچے آنے کی وجہ قرار دیا گیا ہو۔
تفتیش کار واقعے کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں، جن میں تکنیکی، آپریشنل، طبی اور انسانی عوامل شامل ہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ طیارہ اچانک نیچے آنے کی اصل وجہ کیا تھی۔
اہم وضاحت: پائلٹ کے مبینہ مثبت ٹیسٹ اور طیارے کے واقعے کے درمیان تعلق ابھی ثابت نہیں ہوا، اس لیے اسے حادثے کی وجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔








