2 رَبيع الأوّل / August 15

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی بیروت میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں حزب اللہ کے ایک سینئر کمانڈر کی ہلاکت کے بعد تہران نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات معطل کر دیے تھے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق محمد باقر قالیباف نے بتایا کہ جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں ہونے والے حملے میں حزب اللہ کی انٹیلی جنس کے سربراہ اپنے اہلِ خانہ سمیت ہلاک ہوئے، جس کے بعد ایران نے مذاکراتی عمل روک دیا۔

قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران نے واضح کیا تھا کہ حملے کا جواب اسی انداز میں دیا جائے گا اور اگر اسرائیل کی جانب سے مزید کارروائی کی گئی تو پورے خطے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایرانی چیف مذاکرات کار کے مطابق اسی دوران امریکا کی جانب سے ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا گیا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں آبنائے ہرمز کھولنے کو بھی اس پیش رفت سے جوڑ دیا گیا۔

قالیباف نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ثالثوں کو واضح کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔ ان کے مطابق بعد ازاں ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پوسٹ میں آبنائے ہرمز سے متعلق حصہ حذف کر دیا گیا۔

انہوں نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ مذاکرات دراصل ایک جدوجہد کا نام ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی بحری ناکہ بندی چند روز بعد دوبارہ شروع ہوئی اور تاحال جاری ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے متعلق سخت بیان دیتے ہوئے اسے امریکی سرزمین کا حصہ قرار دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

ایرانی حکام نے ٹرمپ کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز ماضی میں بھی ایرانی تھی، آج بھی ایران کی ہے اور مستقبل میں بھی ایران کی رہے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو بند یا کھولنے کا اختیار صرف ایران کے پاس ہے۔

نوٹ: خبر میں شامل بیانات ایرانی حکام اور ایرانی میڈیا سے منسوب ہیں، جبکہ ان دعوؤں پر امریکی یا اسرائیلی مؤقف اس متن میں شامل نہیں ہے۔