1
ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات کے بعد حوثیوں کے خلاف کارروائی کا اشارہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کی حوثی ملیشیا سے نمٹنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتخابات کے بعد اس معاملے کو نہیں بھولیں گے۔ ٹرمپ نے حوثیوں پر سعودی عرب کو نشانہ بنانے اور امریکی انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ امریکی…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کی حوثی ملیشیا سے نمٹنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتخابات کے بعد اس معاملے کو نہیں بھولیں گے۔ ٹرمپ نے حوثیوں پر سعودی عرب کو نشانہ بنانے اور امریکی انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے بعد یمن کی حوثی ملیشیا سے نمٹنے کا اشارہ دے دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے حوثیوں کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ سعودی عرب کو نشانہ بنا رہے ہیں اور امریکی انتخابات سے قبل تیل کی قیمتوں میں اضافے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے ہی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر چکے ہیں، تاہم حوثیوں کے معاملے کو فراموش نہیں کریں گے اور انتخابات کے بعد اس حوالے سے اقدام کریں گے۔
حوثیوں پر سعودی عرب کو نشانہ بنانے کا الزام
امریکی صدر نے حوثی ملیشیا کے رویے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حوثی جان بوجھ کر امریکی انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کے بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ امریکی انتظامیہ یمن میں حوثیوں کی سرگرمیوں اور خطے میں ان کے کردار کے معاملے کو انتخابات کے بعد بھی اہمیت دے سکتی ہے۔
ایران پر حوثیوں کی حمایت کا الزام
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایک سال قبل امریکی بمباری کے بعد حوثی خاموش ہو گئے تھے، تاہم اب بظاہر ایران کے کہنے پر دوبارہ سرگرمیاں کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے ایران کی معاشی صورتِ حال پر بھی تنقید کی اور اسے دنیا کی بدترین معیشتوں میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے ایران میں مہنگائی کی شرح 301 فیصد ہونے کا دعویٰ بھی کیا، تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں اس اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں۔
انتخابات کے بعد امریکی پالیسی پر توجہ
ٹرمپ کے بیان میں حوثی ملیشیا کے خلاف ممکنہ اقدامات کا اشارہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب، یمن اور خطے کی سکیورٹی صورتِ حال عالمی توجہ کا مرکز ہے۔
تاہم امریکی صدر نے اپنے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد حوثیوں کے خلاف کس نوعیت کے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس لیے آئندہ امریکی پالیسی اور ممکنہ کارروائی کے بارے میں حتمی صورتِ حال مزید سرکاری بیانات کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔














