3 جُمادى الأولى / October 14

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش کر دی، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کا فیصلہ آخری آپشن کے طور پر کیا گیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قرارداد پیش کر دی گئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِ صدارت اجلاس کے دوران وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد ایوان میں بحث کے لیے پیش کی۔

اس موقع پر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق صدارتی فرمان بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے اجلاس کے دوران وقفۂ سوالات معطل کرنے کی درخواست کی، جس کے بعد ایوان میں وقفۂ سوالات کی کارروائی معطل کر دی گئی۔

اعظم نذیر تارڑ کا مؤقف: غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات ضروری تھے

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی کی صورتِ حال کے پیشِ نظر ایمرجنسی کی تجویز پر غور کیا گیا۔ ان کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں ڈھائی گھنٹے کی مشاورت کے بعد یہ تجویز سامنے آئی۔

اعظم نذیر تارڑ نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا دہشت گردی کے خلاف رویہ ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہا تھا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سیاسی سرگرمیوں کو ترجیح دی اور افواجِ پاکستان سمیت شہریوں کی قربانیوں کو نظر انداز کیا۔

وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ دہشت گردی قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور اس کے خلاف جنگ کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے معاملات کو جمہوری انداز میں حل کرنے کی کوشش کی، تاہم غیر معمولی صورتِ حال میں غیر معمولی اقدامات ناگزیر ہو گئے تھے۔

ایمرجنسی کی پارلیمانی منظوری سے متعلق وزیرِ قانون کا بیان

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ایمرجنسی کے اعلان کے بعد دس روز کے اندر پارلیمان سے منظوری لینا ضروری ہے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج نے قربانیاں دے کر مختلف علاقوں میں امن قائم کیا تھا۔

وزیرِ قانون کے مطابق 2024ء تک دہشت گردی کے 2,911 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ ان کے بیان کے مطابق 15 اکتوبر 2025ء سے اب تک ایسے واقعات کی تعداد 3,787 رہی ہے۔

انہوں نے دہشت گردی کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے باعث صورتِ حال کی سنگینی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

سہیل آفریدی پر سیاسی سرگرمیوں کو ترجیح دینے کا الزام

قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران اعظم نذیر تارڑ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال کو ترجیح دینے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں پر توجہ دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کے عوام کے ساتھ کھڑی ہو اور شہدا کے جنازوں میں شرکت سمیت عوامی مسائل پر توجہ دے۔

وزیرِ قانون نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کے مسائل کے باوجود وفاق پر چڑھائی کے اعلانات کیے گئے، جس سے معاملات مزید پیچیدہ ہوئے۔

مذاکرات اور سیاسی کشیدگی پر بھی اظہارِ خیال

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدرِ مملکت اور وزیراعظم کی خواہش پر حکومت نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا اور معاملات کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق مفاہمتی مسودوں میں متعدد مرتبہ ترامیم بھی کی گئیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران ایک جانب دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر زور دیا جا رہا تھا، جبکہ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور ان سے ملاقاتوں کے مطالبات کیے جاتے رہے۔

وزیرِ قانون نے کہا کہ کسی سزا یافتہ شخص کی رہائی کا بنیادی فورم عدالت ہے، جبکہ رحم کی اپیل کی صورت میں صدرِ مملکت اپنے آئینی اختیار کے مطابق فیصلہ کر سکتے ہیں۔

ایمرجنسی کا فیصلہ آخری آپشن تھا، اعظم نذیر تارڑ

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیرِ قانون نے کہا کہ حکومت کی ترجیح دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو آگے بڑھانا اور ملکی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے بقول ایمرجنسی کا فیصلہ خوشی سے نہیں بلکہ آخری آپشن کے طور پر کیا گیا۔

قومی اسمبلی میں قرارداد پیش ہونے کے بعد خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق معاملہ ایوان میں بحث اور آئندہ پارلیمانی کارروائی کے لیے اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ قرارداد کی منظوری اور اس پر ہونے والی مزید کارروائی کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد صورتِ حال واضح ہوگی۔