1
وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ایم کیو ایم رہنماؤں کی ملاقات، اندرونی کہانی سامنے آگئی
ایم کیو ایم پاکستان نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کرا دی، فاروق ستار نے آپریشن کے ممکنہ ردِعمل میں کراچی کی سکیورٹی سے متعلق خدشات اٹھا دیے۔ اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے رہنماؤں کے درمیان…
ایم کیو ایم پاکستان نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کرا دی، فاروق ستار نے آپریشن کے ممکنہ ردِعمل میں کراچی کی سکیورٹی سے متعلق خدشات اٹھا دیے۔
اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جس میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور کراچی کی سکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کو یقین دہانی کرائی کہ دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جائے گا۔ اس موقع پر ایم کیو ایم نے بھی خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی حمایت کرتے ہوئے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے خدشہ ظاہر کیا کہ خیبرپختونخوا میں آپریشن کی صورت میں دہشت گرد کراچی کا رخ بھی کر سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ آپریشن کے ردِعمل میں کراچی میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے؟ اس کے علاوہ یہ معاملہ بھی زیرِ بحث آیا کہ دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کی منظم پناہ گاہوں کو کس طرح نشانہ بنایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزراء نے ایم کیو ایم کے خدشات سے اتفاق کیا۔
وزیرِ اعظم نے اس حوالے سے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر رابطہ کاری کے لیے سندھ حکومت سے بات کی جائے گی تاکہ ممکنہ خطرات سے نمٹنے اور سکیورٹی اقدامات کو بہتر بنانے کے لیے تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
ملاقات میں ہونے والی گفتگو سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ کراچی سمیت دیگر علاقوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کا معاملہ بھی اہمیت کا حامل رہا۔














