11 رَبيع الثاني / September 22

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ طاقت کے ذریعے لوگوں کو سرِ تسلیم خم کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ایران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایرانی عوام کی شکایات، مبینہ جرائم اور پیدا ہونے والے عدم اعتماد کا معاملہ اٹھائے گا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مسعود پزشکیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت اور ایران کا مؤقف پیش کرنے کے لیے امریکا روانہ ہو گئے ہیں۔

روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کئی مرتبہ مذاکرات کی میز پر گیا اور معاہدوں پر دستخط کیے، تاہم ان کے بقول وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری نہیں کی گئی۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ غزہ، فلسطین، شام، یمن اور ایران سمیت مختلف خطوں میں جاری صورتحال ان حقائق کی عکاسی کرتی ہے جن کا دنیا بھر کے لوگ مشاہدہ کر رہے ہیں۔

ایرانی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ مخالف قوتیں ایرانی عوام کو سرِ تسلیم خم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق فوجی ذرائع سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہونے کے بعد دیگر طریقوں سے ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران کے زمینی اور فضائی راستوں کو محدود کرنے، اندرونی اختلافات کو ہوا دینے، میڈیا اور نسلی گروہوں کو استعمال کرنے سمیت مختلف طریقوں سے ملک کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایرانی وفد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایران کے مؤقف، عوامی شکایات اور خطے کی موجودہ صورتحال کو عالمی برادری کے سامنے پیش کرے گا۔