21 رَبيع الأوّل / September 03

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت، بحرین، اردن اور عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو مختلف کارروائیوں کے دوران نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اردن کے کیمپ تیتن میں قائم امریکی بحریہ کے اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ایرانی فورس کا مزید کہنا ہے کہ کیمپ تیتن پر حملے کے دوران کئی امریکی ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے، جبکہ اردن کے پرنس حسن ایئر بیس پر موجود امریکی ڈرونز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ پرنس حسن ایئر بیس پر موجود امریکی پائلٹ اور تکنیکی عملہ بھی حملے کی زد میں آیا۔

تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے امریکی یا اردنی حکام کی جانب سے تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ایران نے بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈے کو بھی ڈرون کے ذریعے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب بحرین کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا اور حملے سے متعلق صورتحال پر قابو پالیا گیا۔

اردن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 13 میں سے 10 بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، جبکہ باقی 3 میزائل آبادی سے دور علاقوں میں گرے۔

امریکی حکام کے مطابق اردن میں ہونے والے مبینہ ایرانی حملے کے نتیجے میں کسی امریکی شہری یا فوجی کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ایران کی جانب سے امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔