19 رَبيع الأوّل / September 01

ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی اڈوں کو جوابی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں متحدہ عرب امارات کے المنہاد ایئر بیس پر ڈرون حملہ بھی شامل ہے۔

ایرانی فوج کے مطابق متحدہ عرب امارات میں واقع المنہاد ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی اہلکاروں اور ہیلی کاپٹروں کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایرانی جزیرہ لارک پر امریکی حملے کے جواب میں کی گئی، جس میں پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں اور ایرانی شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ جزیرہ لارک پر مبینہ امریکی حملے کے جواب میں اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب اردن کی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 میزائلوں کو مار گرایا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے علاقے میں فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ایک امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایرانی دفاعی نظام کو کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی سے نمٹنے کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ دشمن کی جانب سے مزید کسی بھی فوجی جارحیت کی صورت میں فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

ایران کی جانب سے یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم مختلف حملوں سے متعلق فریقین کے دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہونا باقی ہے۔