118
پیٹرول کی قیمتیں میں طے نہیں کرتا، صرف حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کرتا ہوں: علی پرویز ملک
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی عالمی مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق ہوتی ہے، وہ خود قیمتیں مقرر نہیں کرتے بلکہ حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کرتے ہیں۔ پاکستان انرجی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ ان پر تنقید کی جاتی…
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی عالمی مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق ہوتی ہے، وہ خود قیمتیں مقرر نہیں کرتے بلکہ حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کرتے ہیں۔
پاکستان انرجی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ ان پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ روزانہ پیٹرول کی قیمتیں تبدیل کرتے ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ وہ قیمتیں مقرر نہیں کرتے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں تبدیلی کا تعلق بین الاقوامی حالات سے ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ہر جمعے کو قیمتیں تبدیل ہوں۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ انہیں کتنی محبت یا نفرت سے نوازا جاتا ہے، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آج کیے جانے والے فیصلوں سے مستقبل میں ملک کو کیا حاصل ہوگا۔
وزیرِ پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات متعارف کرا رہی ہے اور توانائی کے حوالے سے خودکفالت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کی طویل مدتی توانائی سیکیورٹی یقینی بنانا ضروری ہے جبکہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں میں نمایاں کمی لائی گئی ہے، تاہم شعبے کے تمام حصوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد حکومت نے طویل المدتی اور درمیانی مدت کی توانائی پالیسی پر کام کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ہر دو ماہ بعد ملک کی توانائی کی صورتحال کا جائزہ لے گی۔
وزیرِ پیٹرولیم کے مطابق حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی روشنی میں اقدامات کر رہی ہے اور گزشتہ روز ڈیزل کی قیمتوں کی مد میں عوام کو ریلیف بھی دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئل سیکٹر کے مڈ اسٹریم شعبے میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے مسائل سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔








