15 جُمادى الأولى / October 26

نور میڈیا | عالمی خبریں

نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آج کے کاروباری اداروں میں پائی جانے والی جابرانہ اور زہریلی قیادت کی خصوصیات تقریباً 400 سال قبل بھی موجود تھیں۔ تحقیق میں ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے تجارتی منتظم جیرونیمس کورنیلیسز کو تاریخی شواہد اور جدید تجزیاتی معیار کی بنیاد پر دنیا کا قدیم ترین کارپوریٹ سائیکوپیتھ قرار دیا گیا ہے۔

انگلِیا رسکن یونیورسٹی کے ڈاکٹر کلائیو باڈی کی اس تحقیق کے مطابق، جیرونیمس کورنیلیسز میں کارپوریٹ سائیکوپیتھی سے وابستہ 10 بنیادی خصوصیات دیکھی گئیں۔ ان میں خوش گفتاری سے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا، وفادار حامیوں کا گروہ بنانا، مخالفین کو راستے سے ہٹانا، خوف کی فضا قائم کرنا اور اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرنا شامل ہیں۔

بحری جہاز کی تباہی اور ہولناک قتلِ عام

تحقیق کا مرکزی موضوع 1629ء میں مغربی آسٹریلیا کے ساحل کے قریب تباہ ہونے والا ڈچ بحری جہاز ’باتاویا‘ ہے۔ اس حادثے کے بعد تقریباً 200 افراد دور افتادہ جزائر پر پھنس گئے تھے۔

جہاز کے اعلیٰ افسران امداد حاصل کرنے کے لیے جکارتہ روانہ ہوئے تو جیرونیمس کورنیلیسز زندہ بچ جانے والوں میں نمایاں عہدیدار رہ گیا۔ تحقیق کے مطابق، اس نے جلد ہی اپنی طاقت مستحکم کی، اپنے وفادار افراد کو اہم عہدوں پر تعینات کیا اور ممکنہ مخالفین کو الگ تھلگ کرنا شروع کر دیا۔

اس کی قیادت میں تقریباً 100 مردوں، خواتین اور بچوں کو قتل کر دیا گیا، جبکہ بعض خواتین کو جنسی تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ کورنیلیسز نے ان ہلاکتوں کو خوراک اور پانی کے ذخائر محفوظ رکھنے کے نام پر جائز قرار دینے کی کوشش کی۔

دوسرے جزیرے پر زندہ بچ جانے والوں کی جدوجہد

دوسری جانب ایک الگ جزیرے پر موجود افراد کی قیادت وائبے ہیز کر رہے تھے۔ انہوں نے زندہ بچ جانے والوں کے لیے خوراک اور پینے کے پانی کی تلاش میں منظم کوششیں کیں۔

ان کوششوں کے نتیجے میں میٹھے پانی کے دو کنویں دریافت ہوئے، جبکہ سمندری پرندوں کے انڈے، مچھلیاں اور دیگر جانور خوراک کے ذرائع بنے۔ اس حکمتِ عملی نے ان افراد کی بقا میں اہم کردار ادا کیا۔

جدید دفاتر میں بھی جابرانہ قیادت ایک چیلنج

ڈاکٹر کلائیو باڈی کے مطابق، کورنیلیسز کے رویّے میں وہی طریقے دکھائی دیتے ہیں جو آج بعض اداروں میں زہریلی قیادت سے منسلک کیے جاتے ہیں، جن میں مخالفین کو ہٹانا، وفاداروں کو نوازنا، ملازمین کو خوف زدہ کرنا اور ذاتی اقتدار کے لیے دوسروں کو استعمال کرنا شامل ہے۔

تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ جدید اداروں میں ایسی قیادت ملازمین کو ہراساں کرنے، کام کے ماحول کو خراب کرنے، عملے کے ادارے چھوڑنے کی شرح بڑھانے اور بالآخر کاروباری ناکامی کا سبب بن سکتی ہے۔