119
اے آئی انسانی کنٹرول میں نہ رہے تو اس کی ترقی کا فائدہ نہیں: ستیہ نڈیلا
واشنگٹن: مائیکرو سافٹ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ستیہ نڈیلا نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی کے حوالے سے جاری بحث میں محتاط رویے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اے آئی انسانی کنٹرول میں نہ رہے تو اس کی ترقی کا کوئی فائدہ نہیں۔ ستیہ نڈیلا کا یہ بیان ایسے…
واشنگٹن: مائیکرو سافٹ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ستیہ نڈیلا نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی کے حوالے سے جاری بحث میں محتاط رویے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اے آئی انسانی کنٹرول میں نہ رہے تو اس کی ترقی کا کوئی فائدہ نہیں۔
ستیہ نڈیلا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اے آئی کمپنی اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاریو اموڈی نے اے آئی ماڈلز کی ترقی کی رفتار کچھ کم کرنے اور ٹیکنالوجی کی حفاظت کے لیے مزید مؤثر اقدامات پر زور دیا ہے۔
مائیکرو سافٹ کے سی ای او نے اے آئی کی تیز رفتار ترقی سے متعلق ڈاریو اموڈی کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ مؤثر حفاظتی نظام، نگرانی اور انسانی کنٹرول برقرار رکھنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کی ترقی کو روکنے کے بجائے ایسے حفاظتی اقدامات کیے جانے چاہئیں جو اس ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ اور محفوظ استعمال کو یقینی بنا سکیں۔
ستیہ نڈیلا نے اس بات کی بھی حمایت کی کہ اے آئی ٹیکنالوجی کو صرف چند بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے مختلف ممالک، کمیونٹیز اور اداروں تک وسیع پیمانے پر دستیاب ہونا چاہیے۔
مائیکرو سافٹ اپنے تیار کردہ اے آئی ماڈلز کے لیے ایک ’کوڈ آف کنڈکٹ‘ متعارف کرانے کی تیاری بھی کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اے آئی ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ، محفوظ اور قابلِ اعتماد استعمال کے لیے اصول وضع کرنا ہے۔
اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس کے ممکنہ خطرات اور انسانی نگرانی سے متعلق عالمی سطح پر بحث میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اے آئی کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت اور نگرانی کے مؤثر نظام بھی قائم کیے جائیں۔
اس سے قبل اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سیم آلٹمین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہ ایلون مسک بھی آزاد ماہرین کے ذریعے اے آئی سسٹمز کے حفاظتی جائزے کی حمایت کر چکے ہیں۔








