119
آٹو سیکٹر کے لیے بڑی پیش رفت، نئی پالیسی کی منظوری
اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آٹو پالیسی 2026ء کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ملک میں آٹو پارٹس کی پیداوار اور برآمدات بڑھانے سمیت الیکٹرک اور نئی انرجی گاڑیوں کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آٹو پالیسی 2026ء کا باضابطہ اعلان…
اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آٹو پالیسی 2026ء کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ملک میں آٹو پارٹس کی پیداوار اور برآمدات بڑھانے سمیت الیکٹرک اور نئی انرجی گاڑیوں کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آٹو پالیسی 2026ء کا باضابطہ اعلان آئندہ ہفتے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منظوری کے بعد متوقع ہے۔
آٹو پارٹس پالیسی سے متعلق قائم کمیٹی کی جانب سے بھی سفارشات کی منظوری دی جا چکی ہے۔ دستاویز کے مطابق آٹو پارٹس کی برآمدات بڑھانے کے لیے پاکستانی صنعت کو عالمی ویلیو چینز سے منسلک کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ برآمدات کے فروغ کے لیے 5 بڑے اینکر مینوفیکچرنگ ادارے ملک میں لانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
پالیسی میں آٹو سیکٹر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے کلسٹرز بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ برآمدی آٹو پارٹس کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔
دستاویز کے مطابق آٹو پارٹس ایکسپورٹ کونسل کے قیام، مقامی ویلیو ایڈیشن کو لازمی قرار دینے اور آٹو انڈسٹری میں کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ کی اجازت دینے کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔ اسی طرح انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) سے متعلق منظوری کے مراحل کو ڈیجیٹل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
الیکٹرک اور نئی انرجی گاڑیوں کے شعبے کے لیے بھی پالیسی میں اہم مراعات تجویز کی گئی ہیں۔ نئی انرجی گاڑیوں پر صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی)، کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) اور ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے قرض کی حد بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔
حکام کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد پاکستان کے آٹو سیکٹر میں سرمایہ کاری، مقامی پیداوار، برآمدات اور روزگار کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔








