119
سعودی عرب: نیوم منصوبہ محدود کرنے پر 16 ارب ڈالر خرچ ہوں گے
ریاض: سعودی عرب نے اپنے بڑے اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبے نیوم کے بعض مہنگے اور متنازع منصوبوں کو محدود یا ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر آئندہ پانچ برس کے دوران تقریباً 60 ارب سعودی ریال، یعنی 16 ارب ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض…
ریاض: سعودی عرب نے اپنے بڑے اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبے نیوم کے بعض مہنگے اور متنازع منصوبوں کو محدود یا ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر آئندہ پانچ برس کے دوران تقریباً 60 ارب سعودی ریال، یعنی 16 ارب ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض منصوبوں کو ختم کرنے کے لیے ٹھیکیداروں کے ساتھ معاہدے منسوخ کرنا ہوں گے، جس کے نتیجے میں جرمانوں اور دیگر ادائیگیوں کی مد میں بھی بڑی رقم خرچ ہوگی۔
نیوم منصوبے میں پہاڑوں پر برفانی تفریحی مقام، بحیرۂ احمر کے ساحلی تفریحی مراکز اور صنعتی زون سمیت متعدد بڑے منصوبے شامل تھے۔ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد سعودی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر سیاحت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا تھا۔
نیوم منصوبے کا مرکزی حصہ ’دی لائن‘ تھا، جسے صحرا میں تقریباً 170 کلومیٹر طویل اور 2 کلومیٹر چوڑے جدید شہر کے طور پر تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اس منصوبے میں شہر کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تیز رفتار ریل کے ذریعے سفر کی سہولت بھی شامل تھی۔
’دی لائن‘ کی ابتدائی لاگت تقریباً 500 ارب ڈالر بتائی گئی تھی، تاہم شہری منصوبہ بندی کے بعض ماہرین نے ابتدا ہی سے اس منصوبے کے حجم، لاگت اور عملی امکانات پر سوالات اٹھائے تھے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اب تک نیوم منصوبے پر 50 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکا ہے، جبکہ بعض دیگر اندازوں میں یہ رقم تقریباً 64 ارب ڈالر تک بتائی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بڑھتی ہوئی لاگت اور تعمیراتی تاخیر کے باعث نیوم منصوبے کو نمایاں طور پر محدود کیا جا رہا ہے اور حکام اصل منصوبے کے مقابلے میں کم حجم کے منصوبوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔
نیوم کے سربراہ ایمن المدیفر نے ذمہ داری سنبھالنے کے بعد منصوبے کی ترجیحات کا جامع جائزہ شروع کیا، جس کے نتیجے میں ملازمتوں میں کمی، انتظامی تنظیمِ نو اور مختلف منصوبوں پر نظرِ ثانی کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق اپریل 2025ء میں نیوم کے فعال تعمیراتی عملے میں تقریباً 35 فیصد کمی کی گئی، جبکہ جولائی 2025ء تک ایک ہزار سے زائد ملازمین کو اخراجات میں کمی اور انتظامی نگرانی بہتر بنانے کے لیے منصوبے کے مقام سے ریاض منتقل کیا گیا۔
نیوم کے سابق سربراہ نذمی النصر نے نومبر 2024ء میں اچانک عہدہ چھوڑ دیا تھا۔
نیوم کے مستقبل کے حوالے سے سعودی عرب کی ترجیحات میں بھی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ اب منصوبے کے بعض حصوں میں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹرز اور جدید ٹیکنالوجی پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔
فروری 2026ء میں ڈیٹا وولٹ کے ساتھ 5 ارب ڈالر کی شراکت داری کا اعلان کیا گیا، جس کے تحت نیوم کے اوکساغون علاقے میں مصنوعی ذہانت کے لیے ایک بڑے ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ شامل ہے۔
نیوم کا اب تک باقاعدہ طور پر کھولا جانے والا نمایاں منصوبہ سندالہ کا پرتعیش کشتی رانی مرکز ہے، جس کا افتتاح اکتوبر 2024ء میں کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ بھی مقررہ وقت سے تقریباً تین سال تاخیر سے مکمل ہوا جبکہ اس کی لاگت ابتدائی اندازے کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ رہی۔
نیوم کو سعودی عرب کے وژن 2030ء کا ایک اہم حصہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اس کا مقصد تیل پر انحصار کم کرکے سیاحت، ٹیکنالوجی، صنعت اور دیگر غیر تیل شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
ابتدائی منصوبے کے مطابق ’دی لائن‘ میں تقریباً 90 لاکھ افراد کو آباد کرنے کا تصور پیش کیا گیا تھا، تاہم نیوم کے کئی بڑے منصوبے اب محدود، معطل یا منسوخ کیے جا رہے ہیں۔
سعودی قیادت کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آ چکا ہے کہ اگر عوامی مفاد کا تقاضا ہوا تو کسی بھی پروگرام یا ہدف کو منسوخ کرنے یا اس میں بنیادی تبدیلی کرنے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
نیوم منصوبے کے حوالے سے ہونے والے داخلی جائزوں میں انتظامی سطح پر غیر حقیقی توقعات، منصوبے کی مشکلات اور اخراجات سے متعلق اعلیٰ قیادت تک مکمل معلومات کی ترسیل کے حوالے سے بھی خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔
یوں نیوم، جو کبھی سعودی عرب کے مستقبل کے سب سے بڑے اور بلند حوصلہ منصوبوں میں شمار ہوتا تھا، اب بڑھتی ہوئی لاگت، تعمیراتی تاخیر اور مالی ترجیحات میں تبدیلی کے باعث ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔








