27 رَبيع الأوّل / September 09

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک متنازع نقشہ شیئر کیے جانے کے بعد امریکا اور آئس لینڈ کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک نقشہ شیئر کیا، جس میں امریکا، کینیڈا، گرین لینڈ، آئس لینڈ، میکسیکو اور کیریبیئن کے بعض علاقوں کو ایک ہی زمینی حصے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نقشے پر امریکی پرچم نمایاں کیا گیا اور پورے علاقے کو ’یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکا‘ کے نام سے ظاہر کیا گیا، تاہم ٹرمپ نے نقشے کے ساتھ کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔

نقشہ سامنے آنے کے بعد آئس لینڈ کی حکومت نے امریکی سفیر بلی لانگ کو وزارتِ خارجہ طلب کرکے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔

آئس لینڈ کی وزیراعظم کرسٹرون فروسٹاڈوتیر نے ٹرمپ کے اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئس لینڈ، کینیڈا اور گرین لینڈ کے عوام کی توہین ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی خودمختاری کا مذاق اڑانے میں کوئی مضحکہ خیز یا معمول کی بات نہیں۔

آئس لینڈ کی وزیر خارجہ تھورگیرڈور کترین گونارسدوتر نے بھی نقشے کو ’انتہائی نامناسب‘ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ آئس لینڈ ایک خودمختار ملک ہے اور اس کی سرزمین پر کسی غیر ملکی دعوے کی کوئی گنجائش نہیں۔

متنازع نقشے کے معاملے پر آئس لینڈ کے احتجاج کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔