119
غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی حمایت نہیں کریں گے، امریکا
امریکا نے غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سے متعلق اسرائیلی تجاویز مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کے کسی منصوبے کی حمایت نہیں کرتا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے عرب میڈیا کو بتایا کہ غزہ سے متعلق کسی بھی قسم کی نقل مکانی لازماً رضاکارانہ ہونی چاہیے۔…
امریکا نے غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سے متعلق اسرائیلی تجاویز مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کے کسی منصوبے کی حمایت نہیں کرتا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے عرب میڈیا کو بتایا کہ غزہ سے متعلق کسی بھی قسم کی نقل مکانی لازماً رضاکارانہ ہونی چاہیے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن کی توجہ غزہ کو غیر مسلح کرنے، وہاں استحکام لانے اور غزہ کے رہائشیوں کے مفاد میں تعمیر نو پر مرکوز ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے حال ہی میں کہا تھا کہ غزہ کے بحران کا حقیقی حل فلسطینیوں کی نقل مکانی کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کو غزہ سے سمندر، فضاء یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے نکالنے کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔
اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے بھی فلسطینیوں سے غزہ چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب امن کے بجائے نقل مکانی کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے تحت غزہ میں غیر مسلح کاری، استحکام اور تعمیر نو کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان پُرامن سیاسی مستقبل کے لیے مذاکرات بھی ضروری ہیں۔
عرب ممالک، جن میں امریکا کے قریبی اتحادی بھی شامل ہیں، فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کو پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ سے تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کو منتقل کرنے اور علاقے کو ’’مشرقِ وسطیٰ کا ریویرا‘‘ بنانے کی تجویز پیش کی تھی، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے غزہ کے بحران کے خاتمے کے لیے 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا، تاہم عرب میڈیا کے مطابق اس پر عملی پیش رفت محدود رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینیوں کی بے دخلی پر اصرار نے غزہ سے متعلق مذاکرات کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔
واشنگٹن کے عرب مرکز کے فلسطین اسرائیل پروگرام کے سربراہ یوسف منائیر نے کہا ہے کہ غزہ میں امن کی پیش رفت نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ اسرائیل میں یہ سوچ مضبوط ہونا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ بقائے باہمی ممکن نہیں۔
ان کے مطابق فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنے کی کوششیں مستقبل میں مغربی کنارے اور اسرائیل میں موجود فلسطینی شہریوں تک بھی پھیل سکتی ہیں۔








