23 رَبيع الأوّل / September 05

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کو اپنی پالیسیوں اور قیادت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے، جبکہ ان کی اپنی جماعت ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر تھام ٹیلیس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سینیٹر تھام ٹیلیس نے پیٹ ہیگستھ پر امریکی فوج کی قیادت میں بدانتظامی اور نااہلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پینٹاگون میں متعدد اعلیٰ فوجی اور سویلین عہدیدار اپنے عہدوں سے الگ ہو چکے ہیں۔

فوج کے سیکریٹری ڈینیل ڈرسکول کا حالیہ استعفیٰ بھی اعلیٰ سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ پیٹ ہیگستھ جنوری 2025 میں ایک متنازع سینیٹ ووٹ کے بعد امریکی وزیرِ دفاع مقرر ہوئے تھے۔

پیٹ ہیگستھ کے دور کا ایک بڑا تنازع مارچ 2025 میں اس وقت سامنے آیا جب یمن کے خلاف متوقع فوجی کارروائی سے متعلق حساس معلومات ایک نجی سگنل گروپ میں شیئر ہونے کا معاملہ سامنے آیا اور ایک صحافی بھی غلطی سے اس گروپ میں شامل ہو گیا۔

ہیگستھ نے فوجی منصوبوں کے افشا ہونے کی تردید کی تھی، تاہم اس معاملے پر امریکی حکام اور ماہرین کی جانب سے سکیورٹی خدشات کا اظہار کیا گیا۔ ایک سرکاری تحقیقاتی رپورٹ میں بھی یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ حساس معلومات کے افشا ہونے سے امریکی فوجیوں کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی تھیں۔

رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ہیگستھ نے اپنی اہلیہ، بھائی اور ذاتی وکیل پر مشتمل ایک دوسرے سگنل گروپ میں حساس فوجی معلومات شیئر کیں، تاہم ان واقعات پر ان کے خلاف کوئی باقاعدہ سزا عائد نہیں کی گئی۔

ہیگستھ کے وزیرِ دفاع بننے کے بعد پینٹاگون میں متعدد اعلیٰ فوجی اور سویلین حکام کو عہدوں سے ہٹایا گیا یا انہوں نے استعفے دیے۔

ان تبدیلیوں میں بحریہ کی سربراہ ایڈمرل لیزا فرانشیٹی، کوسٹ گارڈ کی کمانڈنٹ لنڈا فیگن اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ چارلس کیو براؤن سمیت دیگر اہم عہدیدار شامل تھے۔

لنڈا فیگن اور لیزا فرانشیٹی اپنے متعلقہ عہدوں پر فائز ہونے والی پہلی خواتین تھیں۔ انتظامیہ کی جانب سے فیگن کی برطرفی کو قیادت سے متعلق خامیوں اور ترجیحات سے متعلق اختلافات سے جوڑا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اعلیٰ حکام کی رخصتی کا سلسلہ 2026 میں بھی جاری رہا اور فوج کے سیکریٹری ڈینیل ڈرسکول کا استعفیٰ اس کی تازہ مثال ہے۔

پیٹ ہیگستھ کی جانب سے اعلیٰ فوجی عہدوں پر ترقی کے لیے تجویز کیے گئے متعدد نام روکنے کا معاملہ بھی تنقید کی زد میں رہا۔

عرب میڈیا کے مطابق تقریباً 80 افسران کے نام ترقیوں کی فہرست سے نکالے گئے، جن میں ایک اور دو ستاروں والے جنرل بننے کے امیدوار بھی شامل تھے۔

ناقدین نے سوال اٹھایا کہ وزیرِ دفاع کو اس انداز میں فوجی ترقیوں کے عمل کو روکنے کا اختیار کس حد تک حاصل ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ترقی سے محروم کیے جانے والے افسران میں خواتین اور سیاہ فام افسران کی تعداد غیر متناسب طور پر زیادہ تھی۔

ہیگستھ کے دور میں امریکی محکمہ دفاع اور صحافیوں کے درمیان تعلقات بھی کشیدہ رہے۔ پینٹاگون میں صحافیوں کی رسائی سے متعلق قواعد میں تبدیلیاں کی گئیں اور میڈیا اداروں نے ان اقدامات پر تحفظات کا اظہار کیا۔

ستمبر 2025 میں ایک نئی پالیسی کے تحت صحافیوں سے ایسے ضابطے پر دستخط کرانے کی کوشش کی گئی جس کی خلاف ورزی کی صورت میں ان کی میڈیا اسناد منسوخ کی جا سکتی تھیں۔

بعد ازاں عدالت نے اس پالیسی کو آزادیٔ اظہار کے آئینی حق سے متصادم قرار دیتے ہوئے روک دیا، تاہم محکمہ دفاع اور میڈیا کے درمیان اختلافات برقرار رہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ اخبار ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ سے وابستہ تین صحافیوں نے محکمہ دفاع کے خلاف مقدمہ بھی دائر کیا۔ صحافیوں کا مؤقف تھا کہ انہیں ادارتی آزادی سے متعلق اظہارِ خیال کرنے پر برطرف کیا گیا۔

ہیگستھ نے بعض میڈیا اداروں کی رپورٹنگ کو غیر محبِ وطن قرار دے کر بھی تنقید کا سامنا کیا۔

پیٹ ہیگستھ نے امریکی فوج میں ’مہلک طاقت‘ کو اہم اصول کے طور پر پیش کیا اور ایسے قواعد میں تبدیلی کی حمایت کی جنہیں وہ فوجی کارروائیوں میں غیر ضروری رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

ستمبر 2025 سے امریکی فوج کی جانب سے کیریبین سمندر اور مشرقی بحرالکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث قرار دی جانے والی کشتیوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ بھی رپورٹ ہوا۔

ناقدین نے ان کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت اور ان کے خلاف شواہد عوام کے سامنے نہ لائے جانے پر سوالات اٹھائے۔ بعض قانونی ماہرین نے ان حملوں کو ماورائے عدالت قتل کے خدشات سے بھی جوڑا۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان کارروائیوں میں اب تک 227 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ ایک واقعے میں پیٹ ہیگستھ پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے ابتدائی حملے کے بعد زندہ بچ جانے والے افراد کو دوبارہ نشانہ بنانے کا حکم دیا۔

ہیگستھ نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے متعلقہ رپورٹنگ کو من گھڑت اور اشتعال انگیز قرار دیا۔

پیٹ ہیگستھ کے خلاف ریپبلکن سینیٹر کی جانب سے عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کے بعد امریکی محکمہ دفاع کی قیادت اور پالیسیوں سے متعلق سیاسی بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔