118
امریکی فوج میں قیادت کا بحران، اعلیٰ جنرلوں کی برطرفیوں پر تشویش
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے متعدد اعلیٰ فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹائے جانے کے بعد امریکی بری فوج میں قیادت اور انتظامی معاملات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی بری فوج اپریل سے مستقل چیف آف اسٹاف کے بغیر کام کر رہی ہے، جب پیٹ…
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے متعدد اعلیٰ فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹائے جانے کے بعد امریکی بری فوج میں قیادت اور انتظامی معاملات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی بری فوج اپریل سے مستقل چیف آف اسٹاف کے بغیر کام کر رہی ہے، جب پیٹ ہیگستھ نے جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق نئے چیف آف اسٹاف کی تقرری کے حوالے سے تاحال کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
رپورٹس کے مطابق جنرل رینڈی جارج کے ممکنہ جانشین سمجھے جانے والے کم از کم 3 اعلیٰ افسران بھی عہدوں سے ہٹائے گئے، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 6 سینئر فوجی افسران کو برطرف کیا گیا یا انہیں عہدے چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔
امریکی فوج کو یہ صورتحال ایسے وقت میں درپیش ہے جب ایران سے متعلق فوجی کارروائیوں سمیت مختلف محاذوں پر اس کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس کے علاوہ میدانِ جنگ میں ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بھی امریکی فوج کے لیے نئے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سستے ڈرونز بڑے پیمانے پر استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایران اور روس کی جانب سے جدید میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی میں بھی پیش رفت کی گئی ہے۔
امریکی بری فوج کے سیکریٹری ڈینیئل پی ڈرسکول کے بھی آنے والے مہینوں میں ٹرمپ انتظامیہ سے الگ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ وہ ماضی میں پیٹ ہیگستھ کی جگہ ممکنہ وزیرِ دفاع کے امیدواروں میں شامل رہے ہیں۔
امریکی بری فوج میں 4 اسٹار جنرلز کی تعداد نصف رہ گئی
جنوری 2025ء میں پیٹ ہیگستھ کے وزیرِ دفاع بننے کے وقت امریکی بری فوج میں 10 فعال 4 اسٹار جنرل موجود تھے، تاہم اب یہ تعداد کم ہو کر 5 رہ گئی ہے، جو کئی دہائیوں کی کم ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بعض اعلیٰ عہدے ختم کیے جا چکے ہیں جبکہ کچھ اہم ذمہ داریاں دیگر فوجی سروسز کے افسران کو منتقل کی جا رہی ہیں۔
امریکی بری فوج کی تربیت اور تبدیلی کی اہم کمانڈ کا عہدہ بھی خالی ہے۔ یہ کمانڈ زمینی فوجیوں کی تربیت اور انہیں جنگی سازوسامان فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے، جس میں پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام چلانے والے اہلکار بھی شامل ہیں۔
مزید اعلیٰ افسران بھی عہدوں سے ہٹائے گئے
پیٹ ہیگستھ نے گزشتہ سال جنرل ڈیوڈ ایم ہڈن کو مذکورہ کمانڈ کا سربراہ مقرر کیا تھا، تاہم تقریباً 8 ماہ بعد انہیں بغیر کوئی وجہ بتائے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
یہ عہدہ ایسے وقت میں خالی ہے جب ایرانی میزائل حملوں کے خلاف پیٹریاٹ دفاعی نظام کا استعمال بھی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
گزشتہ سال اکتوبر میں ہیگستھ نے بری فوج کے نائب چیف آف اسٹاف جنرل جیمز منگس کو بھی متوقع مدت سے تقریباً ایک سال قبل عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس اور پیٹ ہیگستھ نے جنرل کرسٹوفر لینیو کو نائب چیف آف اسٹاف کے لیے نامزد کیا۔ لینیو اس سے قبل پیٹ ہیگستھ کے سینئر فوجی معاون کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔
جنرل رینڈی جارج کی برطرفی بھی متنازع رہی
پیٹ ہیگستھ نے ابتدا میں جنرل رینڈی جارج پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے جنرل کرسٹوفر لینیو کی نامزدگی روکنے والے قانون سازوں کے ساتھ مل کر کام کیا، تاہم کانگریسی حکام نے اس الزام کو غلط قرار دیا تھا۔
جنرل لینیو نے فروری میں نائب چیف آف اسٹاف کا حلف اٹھایا، تاہم دو ماہ سے بھی کم عرصے بعد پیٹ ہیگستھ نے تقریباً 15 سیکنڈ کی فون کال میں جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے برطرف کر دیا۔
اب جنرل کرسٹوفر لینیو بیک وقت نائب چیف آف اسٹاف اور قائم مقام چیف آف اسٹاف کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، دونوں عہدے 4 اسٹار جنرل کی سطح کے ہیں۔
امریکی قانون سازوں کی جانب سے تشویش کا اظہار
ری پبلکن سینیٹر جونی ارنسٹ نے خبردار کیا کہ فوجی تربیت میں شارٹ کٹ اور نظم و ضبط میں کوتاہی کی قیمت فوجیوں کو اپنی جان سے چکانا پڑ سکتی ہے۔
نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس پیٹ ریان نے بھی کہا کہ جنگ کے دوران تجربہ کار اور ثابت شدہ فوجی قیادت کو کمزور کرنے سے امریکی فوجی کم محفوظ ہو سکتے ہیں اور جنگ جیتنے کے امکانات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
امریکی فوج میں اعلیٰ سطح پر مسلسل ہونے والی تبدیلیوں کے باعث فوجی قیادت، تجربے اور جنگی تیاریوں سے متعلق بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔








