118
آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی موجودگی، ایران کے خلاف 50 ہزار اہلکار تعینات
آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں شامل اہلکاروں کی تعداد سامنے آگئی۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق خطے میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی بحری ناکہ بندی اور سمندری آمد و رفت کی نگرانی میں حصہ لے رہے ہیں۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق گزشتہ ماہ کے وسط میں آبنائے ہرمز…
آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں شامل اہلکاروں کی تعداد سامنے آگئی۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق خطے میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی بحری ناکہ بندی اور سمندری آمد و رفت کی نگرانی میں حصہ لے رہے ہیں۔
امریکی سینٹ کام کے مطابق گزشتہ ماہ کے وسط میں آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے ایران کی جانب سے تیل کی برآمد نہیں کی گئی، جبکہ امریکی تعاون سے خلیج سے تقریباً 750 ملین بیرل تیل منتقل کیا جا چکا ہے۔
سینٹ کام کے بیان کے مطابق تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری ناکہ بندی کے نفاذ اور سمندری آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے مختلف کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
امریکی کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بچھائی گئی مبینہ بارودی سرنگیں ہٹانے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔
امریکی سینٹ کام کے مطابق امریکی اجازت کے بغیر کسی بھی جہاز کو ایرانی بندرگاہ میں داخل ہونے یا وہاں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایرانی بندرگاہوں سے جہازوں کی آمد و رفت اور بندرگاہوں تک بحری جہازوں کی رسائی کی اجازت دی جا رہی ہے۔
سینٹ کام کے مطابق ایران کی جانب سے بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے 75 جہازوں کے لیے پیشگی تیاری کی گئی تھی۔
امریکی بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان میں سے 3 جہازوں کو احکامات کی تعمیل نہ کرنے پر ناکارہ بنا دیا گیا۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم سمندری راستہ ہے، اس لیے خطے میں بحری کشیدگی اور آمد و رفت میں رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔








