15 رَبيع الأوّل / August 28

لاہور: وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے انسانی اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے پورے نیٹ ورک کو قانون کی گرفت میں لانے کا حکم دے دیا۔

وفاقی وزیرِ داخلہ نے لاہور میں ایف آئی اے زونل آفس کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اجلاس کی صدارت کی اور ایف آئی اے زونل آفس کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔

محسن نقوی نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی مافیا کی پوری چین کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور جرائم پیشہ گینگز کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتائج واضح طور پر نظر آنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی ایف آئی اے کی بنیادی ذمہ داری ہے، اس لیے کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے۔

اجلاس میں ملک بھر کے ایئرپورٹس پر امیگریشن کاؤنٹرز سے پرانے کیمرے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

امیگریشن کاؤنٹرز پر جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیمرے نصب کرنے کی اصولی منظوری بھی دے دی گئی، جس کا مقصد نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

اجلاس میں شہریوں کی شکایات کے اندراج کے لیے پاک آئی ڈی ایپ کی خدمات حاصل کرنے کا بھی اصولی فیصلہ کیا گیا۔

اس اقدام سے شکایات کے اندراج اور ان کے ازالے کے عمل کو مزید آسان اور مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔

اجلاس میں ایف آئی اے کی گزشتہ ایک سال کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ کے مطابق ایف آئی اے نے ایک سال کے دوران 1,670 ایف آئی آرز درج کیں، جبکہ 5 ہزار انکوائریز میں سے 4 ہزار نمٹا دی گئیں۔

حکام کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران 295 اشتہاری ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

محسن نقوی نے ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی کہ انسانی اسمگلنگ، حوالہ ہنڈی اور دیگر جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے۔