28 صَفَر / August 11

نئی دہلی: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست کو طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے پر بھارتی میڈیا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے نئی دہلی کے لیے ایک اہم علاقائی اسٹریٹجک چیلنج قرار دیا ہے۔

بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس سے خطے میں دفاعی توازن پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی مسلح تنازع کی صورت میں سعودی عرب بھی معاہدے کی شرائط کے تحت پاکستان کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کو فوجی تربیت اور دفاعی معاونت فراہم کی ہے، جبکہ مختلف ادوار میں پاکستانی فوجی اہلکار سعودی عرب میں تعینات بھی رہے ہیں۔

رپورٹ میں پاکستان اور ترکیہ کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جنگی ڈرونز، بحری جہازوں، آبدوزوں کی جدید کاری اور دیگر دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ترکیہ سے میلجم کلاس جنگی بحری جہاز اور بیرقدار اَکنجی ڈرونز حاصل کیے ہیں، جبکہ دونوں ممالک دفاعی ٹیکنالوجی میں مزید تعاون پر بھی کام کر رہے ہیں۔

بھارتی تجزیے میں سعودی عرب اور بھارت کے درمیان قریبی تجارتی و اسٹریٹجک تعلقات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون موجود ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دفاعی معاہدے کو خالصتاً دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے پیش کیے گئے بعض اعداد و شمار اور عسکری تعاون سے متعلق دعوے رپورٹ کے حوالے سے ہیں، جن کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق ضروری ہے۔