118
غزہ امن منصوبے پر اختلاف کے باوجود ٹرمپ اور نیتن یاہو کے تعلقات برقرار
واشنگٹن: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے غزہ سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ امن منصوبے کی مخالفت کے باوجود ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات اب بھی بہت اچھے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اوول آفس میں ایک تقریب کے اختتام پر صحافی…
واشنگٹن: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے غزہ سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ امن منصوبے کی مخالفت کے باوجود ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات اب بھی بہت اچھے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اوول آفس میں ایک تقریب کے اختتام پر صحافی نے ٹرمپ سے نیتن یاہو کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوال کیا، جس پر امریکی صدر نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔
رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے کئی روز سے جاری تنقید کے بعد اتوار کو واضح کیا تھا کہ وہ غزہ امن منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں۔ منصوبے کے تحت حماس کو غیر مسلح ہونے کے عمل کے ساتھ ساتھ اسرائیلی افواج کو غزہ سے واپس بلانے کی تجویز دی گئی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کو آئندہ انتخابات سے قبل سیاسی دباؤ کا بھی سامنا ہے، جبکہ بعض رائے عامہ کے جائزوں میں وہ اپنے سیاسی حریفوں کے برابر یا ان سے پیچھے دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ غزہ امن منصوبہ نیتن یاہو کے دائیں بازو کے حلقوں میں زیادہ مقبول نہیں، جبکہ ان کی حکومت میں شامل انتہائی دائیں بازو کے ارکان بھی منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
دوسری جانب نیتن یاہو ماضی میں ٹرمپ کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو اپنی سیاسی طاقت کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے بھی اسرائیل کی حمایت میں متعدد اہم اقدامات کیے، جن میں امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی بھی شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات اس وقت نمایاں ہوئے جب ٹرمپ نے جنگ بندی اور تنازع کے مذاکراتی حل پر زور دینا شروع کیا۔ غزہ جنگ کے باعث خطے میں کشیدگی کے ساتھ ساتھ امریکی سیاست اور عالمی توانائی کی منڈی پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
غزہ سے متعلق امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں کمی ضرور آئی، تاہم مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہوا۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی کارروائیوں میں 1,250 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج کے مطابق اسی عرصے میں اس کے 5 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔








