118
پاکستان کی سولر پاور صلاحیت 38 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی، صاف توانائی کے فروغ پر حکومت کا بڑا اعلان
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان کی سولر توانائی کی مجموعی صلاحیت 38 ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ حکومت کا ہدف 2035ء تک ملک کی بجلی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ 90 فیصد تک بڑھانا ہے۔ اسلام آباد میں بیٹری اسٹوریج فلیکسیبلٹی 2026 کانفرنس سے خطاب…
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان کی سولر توانائی کی مجموعی صلاحیت 38 ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ حکومت کا ہدف 2035ء تک ملک کی بجلی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ 90 فیصد تک بڑھانا ہے۔
اسلام آباد میں بیٹری اسٹوریج فلیکسیبلٹی 2026 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ حکومت درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے بیٹری انرجی اسٹوریج کے شعبے کو مقامی سطح پر فروغ دے رہی ہے، جس سے توانائی کا نظام مزید مؤثر اور پائیدار بنایا جا سکے گا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت مقامی بیٹری مینوفیکچرنگ، انجینئرنگ، سسٹم انٹیگریشن اور بیٹری مینجمنٹ سافٹ ویئر کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، جبکہ وزارتِ صنعت قومی بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی کو حتمی شکل دے رہی ہے۔
وزیرِ توانائی کے مطابق حکومت قومی بیٹری انرجی اسٹوریج فریم ورک بھی تیار کر رہی ہے، جس میں حفاظتی معیارات، گرڈ کنکشن، سرمایہ کاری کے قواعد اور ریگولیٹری رہنما اصول شامل ہوں گے۔
اویس لغاری نے کہا کہ ملک میں صاف توانائی کا حصہ 55 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کے فروغ کے لیے قومی اسٹیئرنگ کمیٹی، ٹیکنیکل اور ریگولیٹری ورکنگ گروپس بھی قائم کیے جا چکے ہیں۔ بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں بیٹری اسٹوریج کے پائلٹ منصوبوں کی منظوری بھی دی جا چکی ہے، جن سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مستقبل کی توانائی پالیسی کی بنیاد بنے گا۔
انہوں نے عالمی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں شفاف، طویل المدتی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، جبکہ قابلِ عمل تجاویز کو براہِ راست حکومتی پالیسی سازی کا حصہ بنایا جائے گا۔








