0
پاکستان اور بحرین کا تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
پاکستان اور بحرین نے باہمی تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر لیا ہے، جبکہ تجارت میں اضافے کے لیے تین سالہ منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔ پاکستان اور بحرین کے درمیان مشترکہ وزارتی کمیشن کا تیسرا اجلاس پانچ سال کے وقفے کے بعد اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس…
پاکستان اور بحرین نے باہمی تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر لیا ہے، جبکہ تجارت میں اضافے کے لیے تین سالہ منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔
پاکستان اور بحرین کے درمیان مشترکہ وزارتی کمیشن کا تیسرا اجلاس پانچ سال کے وقفے کے بعد اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں دوطرفہ تجارت، توانائی اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے سفارتی تعلقات کو 55 سال مکمل ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط اور باہمی تعاون کا سلسلہ جاری ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور بحرین نے باہمی تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ اس مقصد کے حصول کے لیے تین سالہ تجارتی منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مشترکہ ورکنگ گروپس کے تمام اجلاس مکمل ہو چکے ہیں، جن میں مختلف شعبوں میں مفید اور نتیجہ خیز گفتگو ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس ایک سال کے اندر منعقد کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
نائب وزیرِ اعظم نے بحرین کے ولی عہد کے دورۂ پاکستان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کے دورے کا منتظر ہے۔
اسحاق ڈار نے بحرین میں اسلام آباد یونیورسٹی آف نرسنگ اور متعلقہ طبی علوم کے اسپتال کے افتتاح پر بحرینی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کہا کہ تجارت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
بحرینی وزیرِ خارجہ نے پاکستان اور خلیجی تعاون کونسل کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے موجودہ علاقائی صورتحال کے دوران پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے دوران مثبت کردار ادا کیا۔
بحرینی وزیرِ خارجہ نے سعودی عرب میں ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کی۔
دوسری جانب اسحاق ڈار نے فلسطین کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور القدس کی حقیقی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرتا ہے۔














